فیفا سے قطر کے خلاف رشوت اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ
قطر پر فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کے حصول کے لیے رقوم دینے کا الزام
برطانوی پارلیمان کے ارکان نے فٹ بال کی عالمی فیڈریشن تنظیم (فیفا) کے ایک سابق عہدے دار کو قطر کی جانب سے بھاری رقوم کی ادائی کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان الزامات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر قطر کو 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ کی میزبانی سے محروم کردیا جائے۔
برطانوی لیبر پارٹی کے ایک رکن پارلیمان کلوئیو ایفورڈ نے اخبار ڈیلی ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے فیفا سے اس تمام معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ قطر کو عالمی کپ کی میزبانی سے نوازنے کے لیے کرپشن کی گئی تھی اور اس معاملے میں نئے الزامات سامنے آنے پر سنجیدہ تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ''اگر فیفا تمام معلومات کا جائزہ لیتی ہے اور تحقیقات کا یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کرپشن ہوئِی تھی تو پھر تنظیم کو عالمی کپ کی میزبانی کے لیے نیلامی کا عمل ازسرنو شروع کرنا چاہیے''۔
برطانوی پارلیمان کی ثقافت ،میڈیا اور کھیل کمیٹی کے چئیرمین جان وٹنگ ڈیل نے کہا کہ ''رقوم کی ادائی کے انکشاف سے قطر کو 2022ء کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے منتخب کرنے کے تمام معاملے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور اس بارے میں مزید شکوک پیدا ہوگئے ہیں۔
فیفا نے اس تمام معاملے پر تو کوئی بیان جاری نہیں کیا۔البتہ اس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کے پاس غلط روی کا کوئی ثبوت ہے تو اس کے بارے میں فیڈریشن کی آزاد اخلاقیات کمیٹی کو مزید تحقیقات کے لیے مطلع کیا جاسکتا ہے۔
قطر کی عالمی کپ 2022ء کی کمیٹی نے منگل کو ایک بیان میں بدعنوانیوں کے الزامات کے تناظر کسی غلط روی کی تردید کی تھی۔کمیٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ''بِڈ کمیٹی نے فیفا کے نیلامی کے قواعد وضوابط اور ضابطۂ اخلاق کی سختی سے پاسداری کی تھی اور وہ عام افراد کے درمیان کاروباری معاملات کے بارے میں بالکل آگاہ نہیں تھی۔
ڈیلی ٹیلی گراف نے اپنی منگل کی اشاعت میں یہ انکشاف کیا تھا کہ قطر کی ایک فرم نے 2022ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کا حق حاصل کرنے کے بعد عالمی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) کے ایک سینیر عہدے دار کو قریباً بیس لاکھ ڈالرز کی رقم اداکی تھی۔
رپورٹ کے مطابق فیفا کے سابق نائب صدر جیک وارنر اور ان کے بیٹوں کو قطری فٹ بال کے سابق عہدے دار محمد بن ہمام کی ملکیتی کمپنی نے ساڑھے انیس لاکھ روپے کی رقم ادا کی تھی اور چار لاکھ ڈالرز ان کے ایک ملازم کو ادا کیے گئے تھے۔اخبار نے لکھا ہے کہ اب امریکا کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی وارنر پر رقوم وصول کرنے کے ان مبینہ الزامات کی تحقیقات کررہا ہے۔
محمد بن ہمام کی ملکیتی کمپنی کیمکو نے مبینہ طور پر 2011ء میں مسٹر وارنر کو بارہ لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے۔اس کے علاوہ ان کے دو بیٹوں اور ایک ملازم کو مزید دس لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کی گئی تھی۔
اب اس انکشاف کے بعد اس شُبے کو تقویت ملی ہے کہ فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے بعض ارکان دسمبر 2010ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کے لیے رائے شماری کے وقت غیر جانبدار نہیں تھے۔تاہم وارنر سے جب برطانوی اخبار نے اس معاملے پر گفتگو کی کوشش کی تو انھوں نے کچھ کہنے سے انکار کردیا۔
وارنر چودہ سال تک فیفا کے نائب صدر رہے تھے اور وہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ان بائیس ارکان میں سے ایک تھے جنھوں نے قطر کو 2022ء میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔دوسری جانب قطر اور فیفا نے فٹ بال کی میزبانی دینے کے عمل میں کسی قسم کی غلط روی اور بدعنوانی سے انکار کیا ہے لیکن مبصرین نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم معاملے پر تحقیقات کرے اور حقائق کو منظرعام پر لائے۔
یادرہے کہ محمد بن ہمام فیفا کی صدارت کے بھی امیدوار تھے لیکن 2011ء میں ان پر فیڈریشن کے کیربین خطے سے تعلق رکھنے والے ارکان کو رشوت دینے کا الزام لگا تھا جس کے بعد وہ امیدواری سے دستبردار ہوگئے تھے۔ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کی تحقیقات کی گئی تھی۔وہ دسمبر 2012ء میں فیفا کا اخلاقی ضابطہ توڑنے کے مرتکب پائے گئے تھے اور فیڈریشن نے ان پر تاحیات پابندی عاید کردی تھی۔اس کے بعد وہ اپنے تمام عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔
-
قطری فرم پر فیفا کے عہدے دار کو 20 لاکھ ڈالرز دینے کا الزام
قطر کی 2022ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی ایک مرتبہ پھر الزامات کی زد میں!
ایڈیٹر کی پسند -
بحرین کے شیخ سلمان ایشیائی فٹ بال کنفیڈریش کے صدر منتخب
فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی بن گئے، بن ہمام کا گروپ آؤٹ
بين الاقوامى -
مصر: فٹ بال شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپ، 30 زخمی
مصر کے فٹ بال کلب الاہلی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان قاہرہ کے بین الاقوامی ...
مشرق وسطی -
ایران کا فٹ بال کپتان کو یو اے ای میں کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار
خلیج فارس کو خلیج عرب قرار دینے پر تنازعے سے ایران کے 10فٹ بال کھلاڑی متاثر
مشرق وسطی