نیتن یاہو خاندان کے'غلط' رویے پر نالاں ملازم عدالت پہنچ گیا

اسرائیلی خاتون اول نے گملہ زمین پر دے مارا، اوور ٹائم نہ دیا: گھریلو ملازم کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اپنی اہلیہ سمیت ان دنوں ایک ایسی قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے جس میں ان کی یروشلم والی رہائش گاہ کا سابق کئیر ٹیکر ان کے خلاف مدعی ہے۔ رہائشگاہ کے سابقہ نگران نفتالی نے عدالت میں وزیر اعظم اور خاتون اول سارا یاہو کے خلاف دو لاکھ ستاسی ہزار چھ سو پینسٹھ ڈالر ہر جانے کا دعوی دائر کیا ہے۔

نفتالی ایک سابق فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ سارا یاہو کا محافظ بھی رہ چکا ہے۔ تاہم بعد ازاں اسے رہائش گاہ کی مجموعی نگرانی اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔

مقدمہ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں میاں بیوی نے اپنے اس ملازم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں اور اس کی خدمات کا مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔ خصوصا اس کو اوور ٹائم دینے میں کوتاہی برتی گئی ہے۔

اپنے دائر کردہ مقدمہ میں اس نے کئی واقعات اور کہانیاں بیان کی ہیں جو اس کے ساتھ اس اعلی جوڑے کے کمتر رویے سے متعلق ہیں۔ ایک واقعے میں سارا یاہو نے مرجھائے ہوئے پھولوں کا بڑا سا گملہ زمین پر دے ماراتھا۔

اس دائر کیے گئے مقدمے میں سارا یاہو کو نسل پرست کے حوالے سے بھی زیر بحث لایا گیا ہے اور یہ نسل پرستانہ انداز نفتالی ہی کے خلاف تھا۔ ایک مرتبہ کھانے کے موقع پر اسرائیلی خاتون نے اپنے آپ کو نفیس یورپی قرار دیا اور اپنے ملازم نفتالی کے مراکشی ہونے کو اس کی توہین کیلیے استعمال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں