متاثرہ شہریوں کی امداد میں رکاوٹ بشار رجیم ہے: امریکا

شام کے بارے میں امریکی سوچ منفی ہے، بشار جعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے شامی خانہ جنگی کے متاثرین تک رسائی میں بشار رجیم کی ناکامی سے متعلق پیش کردہ رپورٹ پر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ذمہ داری بشارلاسد پر عاید ہوتی ہے۔

امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عالمی خبر رساں ادارے رائٹر سے بات چیت کے دوران کہا '' اقوام متحدہ کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ بشار رجیم کے ہاتھوں تشدد کی رفتار اور سطح مسلح گروپوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔''

بان کی مون کی طرف سے رپورٹ اتوار کے روز سلامتی کونسل کے ارکان کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بان کی مون نے قرار دیا تھا کہ '' شام میں صورت حال ابھی تک چیلنجنگ ہے۔'' رپورٹ میں بشار رجیم کے ساتھ ساتھ باغیوں کو بھی تشدد کے بڑھنے کا ذمہ دار بتایا گیا ہے۔

تاہم امریکی حکام ذمہ داری بشار رجیم پر ڈالتے ہیں۔ امریکی ذمہ دار نے کہا '' یہ اسد رجیم ہی ہے جو رکاوٹیں پیدا کرتی ہے، ان میں دفتری رکاوٹیں بھی ہیں، یہ رکاوٹیں ویزوں اور سرحدی کنٹرول کے حوالے سے بھی ہیں اور جنگ سے متاثرہ لوگوں تک رسائی روکنے کے حوالے سے بھی ہیں۔''

دریں اثناء اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار جعفری نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے غیر حقیقی قرار دیا ہے۔ بشار رجیم نے کہا ''امریکا مثبت پیش رفت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے، کیونکہ شام کے بارے میں امریکی اپروچ شروع سے ہی منفی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں