جنگ میں قوم کو ایذا پہنچانے پر قذافی کا بیٹا 'پشیمان'

لیبیا حوالگی کے بعد الساعدی القذافی کی دوران حراست ویڈیو فوٹیج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا کے سابق مقتول مرد آہن کرنل معمر القذافی کے بیٹے الساعدی القذافی نے اپنے والد کے خلاف بغاوت کُچلنے میں ریاستی طاقت کے استعمال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ خانہ جنگی کے دوران ایذا دینے اور ضرر پہنچانے پر قوم سے معافی کے خواستگار ہیں۔ الساعدی نے اس اعتراف کے ساتھ حکام سے مطالبہ کیا ہے انہیں رہا کر دیا جائے۔

لیبیا کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر نشر ایک مختصر ویڈیو فوٹیج میں الساعدی القذافی کو ایک دفتر نُما کمرے میں پرسکون طریقے سے بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو اس وقت سامنے آئی تھی جب میڈیا میں یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ الساعدی القذافی کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس فوٹیج سے الساعدی پر حراست میں تشدد کی خبروں کی تردید ہوتی ہے۔

جیل کے ایک کمرے میں قیدیوں کا نیلا لباس پہنے الساعدی کہہ رہے تھے: "قوم کو ایذا پہنچانے پر مجھے افسوس ہے۔ ہم سے جو غلطیاں ہوئیں، قوم معاف کر دے"۔ تاہم اس ویڈیو میں الساعدی کے بارے میں مزید تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ البتہ اس نے اپنے بارے میں کہا ہے کہ جیل میں میرے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء میں کرنل معمر قذافی کے چالیس سالہ آمرانہ نظام حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کے دوران الساعدی خاندان کے کئی دوسرے افراد کے ہمراہ پڑوسی ملک نائیجر فرار ہو گیا تھا۔ رواں ماہ نائیجر کی حکومت نے طرابلس کے مطالبے پر الساعدی کو لیبیا کے حوالے کر دیا تھا۔ الساعدی پر اپنے والد کے ساتھ مل کر طاقت کے ذریعے بغاوت کچلنے کا الزام ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں