تیونسی وزیر داخلہ کی رہائش گاہ پر حملہ، چار محافظ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونسی وزیر داخلہ لطفی بن جدو کی رہائش گاہ پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں مکان کی سیکیورٹی پر مامور کم سے کم چار محافظ ہلاک ہو گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق لطفی بن جدو کی رہائش گاہ پر یہ پہلا دہشت گردی کا حملہ ہے۔ دہشت گردوں نے ملک کے وسط مغربی شہر قصرین کی الزھور کالونی میں وزیر داخلہ کو نشانہ بنایا، تاہم وہ موقع پر موجود نہیں تھے تاہم حملے میں ان کے چار باڈی گارڈ ہلاک ہو گئے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان محمد علی العروی نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ دہشت گردوں نے وزیر داخلہ کی رہائش گاہ پر کلاشنکوفوں سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہاں پر موجود چار سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور چار پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے وقت گھر میں کون کون موجود تھا کیونکہ وزیر داخلہ خود زیادہ وقت دارالحکومت تیونسیہ میں رہتے ہیں تاہم ان کے اہل خانہ قصرین ہی میں مقیم ہیں۔

اے ایف پی کے نامہ نگار نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خون کے چھینٹے رہائش گاہ کی بیرونی دیواروں اور زمین پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

نامہ نگار نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ کئی نقاب پوش حملہ اور ایک پک اپ گاڑی میں آئے تھے اور انہوں نے آتے ہی وزیر داخلہ کی رہائش گاہ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

ادھر مقامی ایف ایم ریڈیو "موزائیک" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور "ڈی ماکس" ماڈل کی ایک گاڑی میں سوار تھے۔ پہلے انہوں نے وزیر داخلہ کی رہائش کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ ناکامی پر وہاں پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں پر فائر کھول دیا۔

ایک عینی شاہد نے ریڈیو کو بتایا کہ منگل کی شام انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں تو فورا معلومات کے لیے پولیس سینٹر رجوع کیا۔ پولیس نے بتایا کہ وزیر داخلہ کے گھر پر حملہ ہوا ہے۔ لوگ وزیر داخلہ کی رہائش گاہ کی جانب دوڑ پڑے۔ وہاں پر چار پولیس اہلکار زخمی پڑے تھے جبکہ ایک پولیس اہلکار پیشانی میں گولی لگنےسے دم توڑ چکا تھا۔ واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے سرچ آپریشن شروع کر دیا تھا، تاہم کسی شخص کی گرفتاری کی اطلاع نہیں مل سکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں