فیفا کپ کی میزبانی ،قطر کے بعد امریکا ''فیورٹ''
بدعنوانی کے الزامات کے بعد قطر کی فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی خطرے میں پڑ گئی
خلیجی ریاست قطر پر2022ء میں ہونے والے عالمی کپ کی میزبانی کے حصول کے لیے اگر بدعنوانی کے الزامات ثابت ہوجاتے ہیں اور اس کو میزبانی سے محروم کردیا جاتا ہے تو پھر برطانیہ کے بُکیوں کے نزدیک امریکا ''فیورٹ'' ہے۔
برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے اسی ہفتے افشاء ہونے والی لاکھوں ای میلز اور دستاویزات کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ قطر کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق عہدے دار محمد بن ہمام نے میزبانی کے حصول کے لیے پچاس لاکھ ڈالرز کی رقم رشوت کے طور پر دی تھی۔
اس انکشاف کے بعد فٹ بال کی عالمی فیڈریشن ایسوسی ایشن (فیفا) کے بعض عہدے دار اور دنیا کے اس مقبول کھیل سے وابستہ نمایاں شخصیات نے قطر کی میزبانی منسوخ کرنے اور اس کی جگہ کسی اور ملک کو منتخب کرنے کے لیے دوبارہ بولی کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی بُکی ولیم ہل نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو اگر میزبانی سے محروم کیا جاتا ہے تو پھر امریکا سب سے زیادہ فیورٹ ہے اور اس کے بعد جنوبی کوریا ،جاپان ،آسٹریلیا اور برطانیہ کا بالترتیب نمبر ہے۔
امریکا قبل ازیں بھی فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کرچکا ہے۔اس نے 2018ء اور 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ مقابلوں کو اپنے ہاں منعقد کرانے کے لیے بولی میں حصہ لیا تھا لیکن وہ 2018ء کے عالمی کپ کے لیے امیدواری سے دستبردار ہوگیا تھا اور اس نے 2022ء کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے بولی میں حصہ لیا تھا۔اس میں آسٹریلیا ،جاپان اور جنوبی کوریا بھی شریک تھے۔
تاہم برطانوی بُکیوں کا کہنا ہے کہ فٹ بال عالمی کپ کے نئے میزبان ملک کے چناؤ کے لیے نئی بولی کے مطالبے کے باوجود اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ قطر ہی میزبان رہے گا۔
برطانیہ کے سابق اٹارنی جنرل اور فیفا کی آزاد گورننس کمیٹی کے رکن لارڈ گولڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ فٹ بال کی عالمی فیڈریشن قطر کی میزبانی سے متعلق لگائے گئے الزامات کا شفاف انداز میں جواب دے۔اگر یہ الزامات درست ثابت ہوجاتے ہیں تو پھر قطر کی میزبانی کے فیصلے پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔
فیفا کے اخلاقی پراسیکیوٹرز نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ قطر کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے انتخاب سے متعلق تحقیقات آیندہ ہفتے مکمل ہوجائیں گی اور ان کی تحقیقاتی رپورٹ اس کے چھے ہفتے کے بعد فیفا کو پیش کردی جائے گی۔
برطانیہ کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے چئیرمین گریگ ڈائیک اور پارلیمان کے ارکان نے فیفا کے ایک سابق عہدے دار کو قطر کی جانب سے بھاری رقوم کی ادائی کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان الزامات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر قطر کو 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ کی میزبانی سے محروم کردیا جائے۔
قطر کی عالمی کپ کمیٹی بدعنوانیوں کے الزامات کے تناظر میں کسی غلط روی کی تردید کرچکی ہے۔کمیٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ''بِڈ کمیٹی نے فیفا کے نیلامی کے قواعد وضوابط اور ضابطۂ اخلاق کی سختی سے پاسداری کی تھی اور وہ عام افراد کے درمیان کاروباری معاملات کے بارے میں بالکل آگاہ نہیں تھی''۔
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے کچھ عرصہ قبل اپنی اشاعت میں یہ انکشاف کیا تھا کہ قطر کی ایک فرم نے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کا حق حاصل کرنے کے بعد فیفا کے ایک سینیر عہدے دار کو قریباً بیس لاکھ ڈالرز کی رقم اداکی تھی۔ رپورٹ کے مطابق فیفا کے سابق نائب صدر جیک وارنر اور ان کے بیٹوں کو قطری فٹ بال کے سابق عہدے دار محمد بن ہمام کی ملکیتی کمپنی نے ساڑھے انیس لاکھ روپے کی رقم ادا کی تھی اور چار لاکھ ڈالرز ان کے ایک ملازم کو ادا کیے تھے۔
-
پاکستان کی برازیل میں ہونے والے عالمی کپ میں ''شرکت''
ارجنٹینا کے فٹ بال ذمے داران کھیل سے زیادہ پاکستان کو جانتے ہیں: میراڈونا
ایڈیٹر کی پسند -
فیفا سے قطر کے خلاف رشوت اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ
قطر پر فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کے حصول کے لیے رقوم دینے کا الزام
بين الاقوامى -
قطری فرم پر فیفا کے عہدے دار کو 20 لاکھ ڈالرز دینے کا الزام
قطر کی 2022ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی ایک مرتبہ پھر الزامات کی زد میں!
ایڈیٹر کی پسند -
بحرین کے شیخ سلمان ایشیائی فٹ بال کنفیڈریش کے صدر منتخب
فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی بن گئے، بن ہمام کا گروپ آؤٹ
بين الاقوامى -
ایران کا فٹ بال کپتان کو یو اے ای میں کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار
خلیج فارس کو خلیج عرب قرار دینے پر تنازعے سے ایران کے 10فٹ بال کھلاڑی متاثر
مشرق وسطی -
مصر: فٹ بال شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپ، 30 زخمی
مصر کے فٹ بال کلب الاہلی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان قاہرہ کے بین الاقوامی ...
مشرق وسطی