عالمی یونینوں کا قطر ائیر ویز پر صنفی امتیاز برتنے کا الزام
دو عالمی یونینیوں نے عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) میں قطر کے خلاف ایک کیس پیش کیا ہے جس میں اس خلیجی ریاست کی ملکیتی فضائی کمپنی قطرائیرویز پر کام کی جگہ پر امتیازات مخالف کنونشنوں کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔
انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن (آئی ٹی ایف) اور انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن (آئی ٹی یو سی ) نے قطری حکومت پر اپنی درخواست میں الزام عاید کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی کمپنی کو آئی ایل او کے کنونشن کی خلاف ورزی کی اجازت دے رکھی ہے حالانکہ اس کنونشن پر قطر نے 1976ء میں دستخط کیے تھے۔
ان دونوں تنظیموں نے قطر ائیرویز پر کام کی جگہ پر صنفی امتیاز اور خواتین کے حقوق پر قدغنیں لگانے کے الزامات عاید کیے ہیں۔انھوں نے قطری حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے بجائے ان سنگین خلاف ورزیوں پر آنکھیں موند رکھی ہیں۔
انھوں نے اپنے کیس کے ساتھ فضائی عملے کی خواتین ارکان کے ساتھ صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے شواہد پیش کیے ہیں۔قطرائیرویز کی ملازمہ خواتین پر عاید کردہ دیگر شرائط کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ملازمت کے پہلے پانچ سال کے دوران شادی نہیں کریں گی۔
آئی ٹی ایف کے جنرل سیکریٹری اسٹیو کاٹن کا کہنا ہے کہ ''قطر ائیرویز پہلے ہی ملازمت کی کڑی شرائط کے لیے مشہور ہے۔اس پر ملازمہ خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات ہیں۔اس کے علاوہ اس نے مہمانوں اور رشتے داروں سے ملنے پر بھی پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔نیز اس کا فضائی عملے میں شامل میزبان خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہرگز بھی قابل قبول نہیں ہے۔
آئی ٹی یو سی کے جنرل سیکریٹری شاران برو نے بیان میں کہا کہ ''قطر میں نافذ العمل کرپٹ کفالہ نظام خواتین کو غلام ( باندی؟) بنا لیتا ہے اور اس کے ذریعے ان کی ہر ہر نقل وحرکت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔قطر ائیرویز میں بھی یہی نظام رائج ہے۔وہ ایک سخت کرفیو میں رہتی ہیں اور ان کے آجر کو ان کے بارے میں پل پل کی خبر ہوتی ہے''۔
واضح رہے کہ قطر کی قومی فضائی کمپنی کو فروری میں عملے کے لیے ملبوسات کی الگ الگ شرائط پر ناروے کے انسداد امتیازات محتسب کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
قطر ائیرویز نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں عملے کی بھرتی کے لیے ایک ایسا اشتہار شائع کرایا تھا جس میں خواتین سے کہا گیا تھا کہ وہ شارٹ سکرٹس پہن کر آئیں مگر مردوں سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ ''بزنس سوٹ''پہن کر آسکتے ہیں۔
ناروے کی ایک نیوزویب سائٹ ''لوکل'' کے مطابق بعد میں اس اشتہار کو تبدیل کردیا گیا اور اس میں یہ کہا گیا کہ خواتین اور مرد دونوں بھرتی کے لیے ''بزنس ملبوسات'' میں آسکتے ہیں۔ناروے کے انسداد امتیازات گروپ کے مشیر کارل فریڈرک ریس کا تب کہنا تھا کہ ''ہمارے خیال میں خواتین اور مردوں سے مختلف ملبوسات کا تقاضا کرنا قانون کے منافی ہے''۔
اس فضائی کمپنی کی ویب سائٹ پر جنوری میں دبئی میں شائع کردہ اشتہار میں کہا گیا تھا کہ ''خواتین کو بزنس سوٹ پہننا چاہیے ،گھٹنوں تک سکرٹ ہو اور ساتھ چست پاجاما(ٹائٹس) نہیں ہونا چاہیے یا پھر جلدی رنگ کا چست پاجاما اور نصف بازو بلاؤز ہو۔بال خوبصورتی سے بنے ہوئے ہوں اور مناسب میک اپ کیا ہوا ہو''۔
اکتوبر میں تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں عملے کی بھرتی کے لیے اسی قسم کا اشتہار دیا گیا تھا۔اس سے پہلے قطر ائیرویز نے ستمبر میں اس وقت ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تھا جب اس نے اپنی ائیرہوسٹس پر یہ شرط عاید کی تھی کہ وہ شادی سے پہلے کمپنی سے اجازت لیں گی۔اس پر انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن نے سخت احتجاج کیا تھا۔
ٹریڈ فیڈریشن نے تب یہ بھی کہا تھا کہ قطر ائیرویز نے بھرتی کے معاہدے میں خواتین کے لیے یہ شق بھی شامل کی ہے کہ اگر وہ امید سے ہوتی ہیں تو انھیں فوری طور پر اپنے سپروائزر کو اس کی اطلاع کرنا ہوگی لیکن اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو انھیں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔
-
قطر: خواتین منی سکرٹ، چست یا شفاف لباس نہ پہنیں
حکومت کے جاری کردہ ''ڈریس کوڈ'' سے غیر ملکی بے چین
مشرق وسطی -
قطر میں گھریلو ملازماؤں سے ناروا سلوک پر ایمنسٹی کی تنقید
انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم کا خلیجی ریاست سے لیبر قانون میں ترمیم کا مطالبہ
بين الاقوامى -
قطر ائیرویز کو''شارٹ اسکرٹس'' کے اشتہار پر تنقید کا سامنا
مردوخواتین عملے کے لیے لباس کی الگ الگ شرائط پر ناروے کے محتسب کا اعتراض
ایڈیٹر کی پسند