9 مغربی ممالک شام پلٹ جہادیوں کی پکڑ دھکڑ پر متفق

فرانس، برطانیہ سمیت یورپی ممالک انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

یورپی یونین کے نو رکن ممالک نے مغربی جہادیوں کو خانہ جنگی کا شکار شام میں جانے سے روکنے اور وہاں سے لوٹنے والوں کی پکڑ دھکڑ کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مربوط اور بہتر بنانے کے منصوبے کی توثیق کر دی ہے۔ اس کے تحت یورپی شہریوں کو جہاد کے لیے شام جانے کی ترغیب دینے والی ویب سائٹس کو فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔

ان یورپی ممالک نے یہ فیصلہ گذشتہ ماہ برسلز میں ایک یہودی عجائب گھر پر حملے میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد کیا ہے۔اس حملے کے الزام میں ایک انتیس سالہ فرانسیسی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ شام میں جاری لڑائی میں حصہ لے چکا ہے اور وہیں سے عسکری تربیت کے بعد لوٹا تھا۔

جہادی ویب سائٹس اور جہادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تجویز فرانس اور بیلجئیم نے پیش کی تھی۔ اس کی سات دوسرے یورپی ممالک جرمنی، سویڈن، ڈنمارک، برطانیہ، نیدرلینڈز، آئیرلینڈ اور سپین نے لکسمبرگ میں جمعرات کو منعقدہ ایک اجلاس میں بھرپور حمایت کی ہے۔

بیلجئیم اور فرانس کی وزارت داخلہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان نو ممالک پر مشتمل گروپ کے حکام اسی ماہ سرکردہ انٹرنیٹ آپریٹروں سے اجلاس کریں گے اور ان میں جہادی ویب سائٹس اور متشدد عسکریت پسندی یا دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والی ویب سائٹس کی فوری بندش کا جائزہ لیا جائے گا۔

بیان کے مطابق برطانیہ نے ایک یورپی ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز پیش کی ہے جو سخت گیر پیغامات کا توڑ کرنے کے لیے میڈیا پر مہم چلائے گی۔اس تجویز کی بھی دوسرے ممالک کے وزرائے داخلہ نے بھرپور حمایت کی ہے۔

اس اجلاس میں شام سے واپس آنے والے جہادیوں کی پکڑ دھکڑ کے لیے بعض اور تجاویز پیش کی گئی ہیں،ان میں شام سے لوٹنے والے افراد کی نشان دہی کے لیے فضائی مسافروں کے ڈیٹا کا استعمال ،شام میں کسی یورپی شہری کی موجودگی کا پتا چلنے پر اس سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، ایسے افراد سے متعلق معلومات کی یورپی یونین کے ڈیٹا بیس کو فراہمی اور پھر اس کی تنظیم کے رکن ممالک میں قانون کے نفاذ کے ذمے دار ادارے یورو پول کو فراہمی کی تجاویز شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یورپ سے مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی جنگ میں حصہ لینے کے لیے آرہی ہے جس پر مغربی حکام کو گہری تشویش لاحق ہے اور حال ہی میں شام سے مختلف مغربی ممالک اور خاص طور پر برطانیہ لوٹنے والے سیکڑوں افراد کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے یا پھر ان میں سے بہت سوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ''شام میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے،وہ اہل سنت اور اسد حکومت کے وفادار علویوں کے درمیان جنگ ہے۔ مغربی جہادی اور خاص طور پر برطانیہ سے جنگجو اس جنگ میں شرکت کے لیے شام کا رُخ کر رہے ہیں''۔ ان کے بہ قول یو رپی شہریوں کی ایک بڑی تعداد اپنی جہادی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے عراق اور شام جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں