.

تہران، عراق میں غیر ملکی فوجی مداخلت کا مخالف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے عراق میں شورش پر قابو پانے کے لیے غیر ملکی فوجوں کے داخلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے کی خلیجی پانیوں میں آمد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک عراق میں غیر ملکی فوجی مداخلت ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

ایرانی طلباء کی نمائندہ خبر رساں ایجنسی "ایسنا" نے تہران میں مرضیہ افخم کی نیوز کانفرنس پر مبنی رپورٹ میں ان سے یہ بیان منسوب کیا ہے کہ "عراق کے پاس دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے پوری صلاحیت موجود ہے۔ کسی دوسرے ملک کا اپنی فوجیں عراق کی جانب روانہ کرنا بغداد اور پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے"۔ ان کا اشارہ امریکی بحری بیڑے کی جانب تھا جو حال ہی میں جنگی ساز وسامان کے ساتھ خلیج پہنچ چکا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے غیر ملکی فوجی مداخلت کی مخالفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی میڈیا میں یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ خود ایران بڑی تعداد میں اپنے فوجی اور رضاکار جنگجو عراق بھیج رہا ہے۔

برطانوی اخبار "گارجیئن" کی رپورٹ کے مطابق ایران نے شمالی عراق کے صوبہ الانبار میں، نینوا اور موصل پر قبضہ کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کی سرکوبی کے لیے دو ہزار فوجی بغداد روانہ کیے ہیں۔

عراقی فورسز نے بھی اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے جس کے بعد بغداد کی طرف تیزی سے بڑھتے داعش کے جنگجوؤں کی پیش قدمی رک گئی ہے۔

قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی کہا تھا کہ ان کا ملک عراق کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر فوجی مدد کرنے کو تیار ہے۔ صدر روحانی کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے عراق میں "جہادیوں" کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا تو ایران بھی امریکی فوج کے شانہ بہ بشانہ جنگ میں حصہ لینے پر غور کر سکتا ہے۔

اُدھر امریکی بحری بیڑے کی خلیج روانگی کے علی الرغم صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اپنی فوجیں عراق میں داخل نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کے بحران کے حل کے لیے کئی دوسرے آپشنز بھی موجود ہیں۔ پیش آئند ایام میں ان پر غور کیا جائے گا۔