.

ایران: 'متعہ' اور نکاح مسیار کے لئے قانون سازی

بے راہ روی پر قابو پانے کے لئے باقاعدہ مراکز کے قیام کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں نکاح 'مسیار' اور 'متعہ' کو باقاعدہ قانونی حیثیت دلوانے کے لیے مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] میں ایک نیا مسودہ قانون پیش کیا گیا ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ منتخب ایوان ملک میں عارضی نکاح یعنی 'متعہ' کو منظم کرنے کے لیے باقاعدہ مراکز قیام کرنے کی اجازت فراہم کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں یہ تجویز ایران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے دی گئی ہے۔ ایرانی مجلس شوریٰ کی ویب سائٹ پر جاری تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیش کردہ مسودہ قانون کو "عارضی نکاح اور اس کے غیر شرعی جنسی تعلقات کی تصحیح پر اثرات" کا نام دیا گیا ہے۔

اس طویل رپورٹ میں ملک میں تیزی سے فروغ پذیر مرد و زن کے غیر قانونی جنسی تعلقات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے اور ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ ملک میں نوجوان طبقے کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ نوجوان غیر قانونی طریقے سے خواتین سے میل جول رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا اس کا صرف ایک ہی مناسب حل ہے۔ وہ یہ ملک بھر میں نکاح متعہ کے لیے باقاعدہ مراکز قائم کیے جائیں۔ ان مراکز کو آئینی اور شرعی اداروں کی حیثیت ہو تاکہ معاشرے میں پھیلتی بے راہ راوی پر قابو پایا جا سکے۔

تجویز کو موثر بنانے کے لیے ٹھوس دلائل بھی دیے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ایرانی سماج میں طلاق کے واقعات، خواتین کی جنسی ہراسیت، غیر شادی شدہ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ اور حجاب سے بے اعتنائی جنسی بے راہ روی کے بنیادی اسباب ہیں جو معاشرے کو تباہی اور بربادی کی جانب لے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایک عوامی جائزے کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ سروے کے دوران معلوم ہوا کہ تہران کی 60 فی صد خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کی۔

مجوزہ مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اہل سنت والجماعت مسلک کے پیرو کاروں کو نکاح متعہ پر قائل نہیں کیا جا سکتا ہے تاہم جہاں جہاں سنی اکثریت موجود ہو وہاں پر نکاح کے لیے اس سے ملتے جلتے مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں، جن میں نکاح مسفار، مسیار یا طلاق کی نیت سے نکاح رجسٹرڈ کرانے کی اجازت ہو۔

مسودہ قانون میں پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاح متعہ کا انتظام کرنے والے اہم مراکز کو قانونی حیثیت دی جائے اور اس سلسلے میں مختلف شہروں میں متعہ کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے جو عارضی طور پر نکاح کے تمام کوائف اپنے پاس محفوظ رکھے۔