.

لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی مخالف احتجاج یورپ تک پھیل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کا دائرہ یورپ تک پھیل گیا ہے۔

برطانوی دارالحکومت لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں عربوں، مقامی افراد اور سیکڑوں فلسطینی تارکین وطن نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مقبوضہ بیت المقدس میں عرب لڑکے ابو خضیر کے اغواء کے بعد بہیمانہ قتل، اس کی نعش کو نذر آتش کرنے، مغربی کنارے میں جاری وحشیانہ کریک ڈاؤن اور غزہ کی پٹی پر بمباری کےخلاف شدید نعرے بازی کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مظاہرین ایک ریلی کی شکل میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے۔ انہوں نے ہاتھوں میں فلسطین پرچم اور شدت پسند یہودیوں کے حملے میں شہید ہونے والے سولہ سالہ محمد ابو خضیر کی تصاویر، کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر صہیونی فوج کے جنگی جرائم کے مُرتکب اسرائیلیوں کو سزا دینے اور تمام فلسطینی شہروں میں اسرائیل کی توسیع پسندی کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔

احتجاجی مظاہرے کے دوران برطانوی پولیس نے اسرائیلی سفارت خانے کے آس پاس سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کر رکھے تھے۔ خیال رہے کہ لندن میں جہاں اسرائیل کا سفارت خانہ قائم ہے وہاں اہم تنصیبات کی وجہ سے اسے حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ فلسطین میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف یہاں اکثر احتجاجی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے میں درجنوں کم عمر بچوں نے بھی شرکت کی جو سولہ سالہ محمد ابو خضیر کے بہیمانہ قتل کے خلاف اس کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کر رہے تھے۔

اس موقع پر بر'طانیہ ۔ فلسطین کلب' کے چیئرمین زیاد العالون نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کے دوران کہا کہ ان کے احتجاج کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم کو بے نقاب کرنا، برطانیہ اور پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف رائے عامہ ہموار کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہے کہ بیرون ملک مقیم فلسطینی بھی اپنے ہم وطنوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پرخاموش نہیں رہ سکتے ہیں۔

زیاد العالون نے نہتے فلسطینی ابو خضیر کے اغواء کے بعد ظالمانہ انداز میں شہادت پر عالمی برادری کی خاموشی کو 'مجرمانہ' طرز عمل سے تعبیر کیا اور کہا کہ مغربی کنارے میں پُراسرار طور پر ہلاک ہونے والے تین یہودی آباد کاروں کے معاملے پر پوری دُنیا نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا، لیکن سر عام ایک معصوم فلسطینی لڑکے کو اغواء کے بعد بے دردی سے شہید کیے جانے پر عالمی برادری کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ انہوں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی توسیع پسندی، وحشیانہ کریک ڈاؤن اور یہودی بستیوں کی تعمیر کو بین الاقوامی آئین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ بدھ کو کار سوار یہودی دہشت گردوں نے نماز فجر کے لیے مسجد جانے والے سولہ سالہ محمد ابو خضیر کو اغواء کر لیا تھا، جس کے کچھ ہی دیر بعد اسے نہایت بے دردی سے شہید کرکے اس کی لاش ویرانے میں پھینک دی گئی تھی۔ اس واقعے نے فلسطین بھر میں اسرائیل کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا دی اور پورا ملک احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔