داعش نے موصل میں 1800 سال پرانا چرچ جلا ڈالا

عراق میں صرف ساڑھے چار لاکھ مسیحی رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام اور عراق میں مسلح جدوجہد کرنے والے انتہا پسند جہادی گروپ دولت اسلامی عراق و شام [داعش] عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں 1800 سال پرانے چرچ کو آگ لگا دی۔

چرچ کو جلائے جانے کا یہ واقعہ موصل میں مسیحی املاک کو تباہ کرنے کے ایک سلسلہ کا ہی حالیہ واقعہ ہے۔ موصل اور اس کے ملحقہ علاقوں پر اسلام پسند باغیوں نے پچھلے ماہ کے دوران قبضہ کیا تھا۔

نو جولائی کو یو ٹیوب پر جاری کردہ ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مقبرے کو ایک بھاری ہتھوڑے کی مدد سے توڑا جا رہا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقبرہ تقریبا یقینی طور پر انجیل میں مذکور نبی یونس کا ہے۔

اس سے پہلے موصل کے مسیحی شہری بڑی تعداد میں شہر کو چھوڑ چکے ہیں کیونکہ القاعدہ سے متاثر جماعت داعش نے انہیں ہفتے کے روز کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ وہ تب تک یا تو اپنا مذہب چھوڑ کر مسلمان ہو جائیں یا جزیہ دے دیں اور اگر نہیں تو پھر علاقہ چھوڑ دیں یا موت کا انتظار کریں۔

عراق میں 'العربیہ' کے نمائندے ماجد حامد کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن کا وقت دن 12 بجے تک تھا۔ حامد نے بتایا کہ بہت سے مسیحی جمعہ کے روز ہی شہر سے ہجرت کر گئے تھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آخر ڈیڈ لائن کے ختم ہونے تک کوئی مسیحی شہر میں باقی تھا یا نہیں۔

عراقی مسیحیوں کے پیشوا پیٹر آرک لوئس ساکو نے جمعہ کے روز میڈیا کو بتایا ہے کہ "مسیحی خاندان دھوک اور اربیل کے علاقوں کا رخ کر رہے ہیں جو کہ خود مختار علاقے کردستان کا حصہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عراق کی تاریخ میں پہلی بار موصل مسیحیوں سے خالی ہو گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق مسیحیوں کو ہفتے تک شہر چھوڑںے کے پیغامات شہر بھر میں لائوڈ سپیکر سے بار بار کئے جاتے رہے ہیں۔

امریکی قیادت میں عراق پر امریکی حملے اور صدام حسین کی اقتدار سے برخاستگی کے وقت ملک میں تقریبا 10 لاکھ مسیحی آباد تھے۔ اس کے بعد سے انتہا پسندوں نے ملک بھر میں مسیحیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور کلیساوں اور مسیحی مذہبی رہنمائوں کو بموں سے اڑانا شروع کر دیا۔ چرچ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب عراق میں صرف ساڑھے چار لاکھ مسیحی رہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں