.

سعودی عرب:غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی مذمت

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے شرمناک جنگی جرائم کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو اسرائیل کے فلسطینی راکٹ حملوں سے دفاع کے لیے دعووں پر ''بے وقوف'' نہیں بننا چاہیے جبکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے قراردیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی فوجی کارروائی جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔

اقوام متحدہ میں متعین سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے: ''جب اسرائیل یہ کہتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی جانب سے فائر کیے جانے راکٹوں کے جواب میں اپنا دفاع کررہا ہے تو اس پر بے وقوف نہیں بننا چاہیے''۔

انھوں نے کہا:''حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس ایک دفاعی نظام ہے اور وہ اپنی جانب آنے والے بیشتر راکٹوں کو پھٹنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیتا ہے۔اب اسرائیل جو کچھ کررہا ہے،یہ اپنا دفاع نہیں ہے بلکہ ایک بڑا جارحانہ حملہ اور شرمناک جنگی جرائم ہیں''۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نیوی پلے نے بدھ کو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے:''غزہ میں بین الاقوامی قانون کی بظاہر اس انداز میں خلاف ورزی کی گئی ہے جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے''۔انھوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے حملوں میں گذشتہ سولہ روز میں شہید ہونے والے فلسطینیوں میں 147 بچے ہیں اور دوتہائی عام شہری ہیں۔

انھوں نے حماس کی جانب سے اسرائیلیوں پر راکٹ حملوں کی بھی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی بچوں اور شہریوں کو بھی راکٹ حملوں کے خوف سے ماورا ہوکر رہنے کا حق حاصل ہے۔انھوں نے کہا کہ ''حماس اور دوسرے فلسطینی گروپوں کی جانب سے شہری علاقوں پر اس طرح کے غیر امتیازی حملوں میں تمیز اور انتباہ کے اصولوں کی واضح طور پر پاسداری نہیں کی جاتی ہے''۔

جارحیت اور مزاحمت

اسرائیل 8 جولائی سے غزہ کی پٹی میں ان راکٹوں حملوں کو روکنے کے نام پر نہتے فلسطینیوں کے خلاف اپنے جدید ہتھیاروں اور فضائی قوت کے ساتھ حملہ آور ہے اور گذشتہ جمعرات سے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ زمینی کارروائی کررہا ہے۔غزہ پر اسرائیلی جارحیت میں اب تک 650 فلسطینی شہید اور قریباً چار ہزار زخمی ہوچکے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں انتیس صہیونی فوجی اور دو عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں وحشیانہ بمباری اور فوجی طاقت کے بے مہابا استعمال کے باوجود فلسطینی مزاحمت کاروں نے راکٹ حملے نہیں روکے ہیں اور وہ اسرائیلی فوج کی جارحیت کا ان راکٹوں سے جواب دے رہے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ان سے کوئی زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔تاہم وہ اپنے سے کئی گنا زیادہ اسرائیلی فوج کی مزاحمت ضرور کررہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر نے بھی بدھ کو ایک بیان میں اس کا اعتراف کیا ہے۔فوجی ترجمان نے کہا کہ''ہمیں سرنگوں کے آس پاس مزاحمت کا سامنا ہے۔وہ ان سرنگوں یا ان کے آس پاس سے ہم پر حملے کررہے ہیں''۔اس ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی رات سے جاری جھڑپوں اور حملوں میں تیس فلسطینی مسلح مزاحمت کاروں کو شہید کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کی ایک گشتی پارٹی پر بم سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں سات صہیونی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔تاہم اسرائیل نے فوری طور پر ان فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ادھر مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں بھی بدھ کو تشدد کا ایک واقعہ پیش آیا ہے اور وہاں اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔