.

داعش نے حضرت یونس کا مزار دھماکوں سے اڑا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام [داعش] نے عراقی شہر نینویٰ میں جلیل القدر پیغمر حضرت یونس علیہ السلام کے مزار سمیت اہل تشیع کے کئی اہم مراکز اور مزارات کو دھماکوں سے تباہ کر دیا ہے۔

ویب پورٹل "السامریہ نیوز" کی رپورٹ کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے موصل میں جامع حسینہ اور امام ابو العلی کا مزار بھی دھماکوں سے تباہ کر دیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے مشرقی موصل میں حضرت یونس کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد پر مکمل قبضے کے بعد مسجد کو نمازیوں کے لیے بند کر دیا گیا جبکہ مزار کو بارود سے اڑا دیا گیا۔ یاد رہے کہ حضرت یونس کے مزار سے متصل جامع مسجد 138ھ میں تعمیر کی گئی تھی۔

ایک دوسرے ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں نے نیو موصل کے علاقے میں واقع اہل تشیع کے امام ابو العلی کے مزار کو بھی بارود سے اڑا دیا۔ اس کے علاوہ الفیصلیہ کے مقام پر امام بارگاہ فاطمیہ اور اہل تشیع کی جامع مسجد کو بھی دھماکوں سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں موصل کے ایک مقامی عہدیدار زھیر الحلبی نے بتایا تھا کہ جمعرات کو داعش کے جنگجووں نے موصل میں پیغمبر حضرت دانیال کے مزار کو بھی دھماکوں سے تباہ کر دیا ہے۔ بدھ کے روز مغربی موصل میں امام یحییٰ ابو القاسم کے مزار کو تباہ کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ جون کے آواخر میں داعش کے جنگجوؤں کے موصل پر قبضے کے بعد مزارات اور اہل تشیع کے مذہبی مراکز کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری ہے۔ چار جولائی کو داعش کے جنگجوؤں نے امام سلطان عبداللہ بن عاصم بم عمر بن خطاب کے مزار کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ اس سے قبل پچیس جون کو شمالی موصل میں امام العباس کے مزار کو دھماکے سے تباہ کیا گیا تھا۔