داعش نے عراق میں مزارات، امام بارگاہیں تباہ کر دیں
سوشل میڈیا پر تباہ شدہ مزارات کی تصاویر جاری
عراقی شہر موصل کے باسیوں اور سماجی رابطے کی وی سائٹس پر پوسٹ تصویروں اور تبصروں سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ گذشتہ ماہ شہر کو زیر نگین بنانے والے جہادیوں نے شمالی عراق کے تاریخی شہر کے اندر اور گرد و نواح میں قدیم مزارات مسمار کر دیے ہیں۔
جنگجووں کے زیر قبضہ شمالی صوبے نینوا میں واقع کم سے کم چار سنی عربوں اور صوفیوں کے مزارات گرا دیے گئے ہیں جبکہ اہل تشیع کی چھے مساجد یا امام بارگاہیں بھی مسمار کی جا چکی ہیں۔ نینوا صوبے کا صدر مقام موصل ہے۔
انٹرنیٹ پر دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' کی پوسٹ کردہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اہل سنت اور صوفیوں کے مزارات پر بلڈوزر چلا دیے جبکہ اہل تشیع کے امام بارگاہیں اور مزارات کو دھماکا خیز مواد لگا کر تباہ کیا گیا۔
یہ تصویریں انٹرنیٹ پر جاری بیان کے ساتھ پوسٹ کی گئی ہیں۔ اس پوسٹ کا عنوان 'ریاست نینوا میں مزارات اور بتوں کی تباہی' رکھا گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے تصدیق کی ہے کہ متذکردہ عمارتیں ڈھا دی گئی ہیں اور عسکریت پسندوں نے دو کیتھرڈل کلیسا بھی قبضے میں لے لئے ہیں۔
موصل کے ایک 51 سالہ رہائشی کا کہنا ہے کہ ان مزارات کے انہدام پر میں افسردہ ہوں، یہ ہمارے آبا و اجداد کا ورثہ تھے۔ یہ شہر کی نشانیاں تھیں۔
موصل کے چلڈین کیتھرڈل چرچ کے ایک ملازم نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے اس کا چرچ اور شامی آرتھوڈکس کیتھرڈل خالی ہونے کی بنا پر ان قبضہ جما لیا ہے۔
ملازم نے مزید کہا کہ جنگجووں نے عمارت کے سامنے نصب صلیب ہٹا کر وہاں 'اسلامی ریاست' کو سیاہ پرچم لگا دیا۔
-
بی بی زینب اور خالد بن ولید کے مزارات پر بمباری
شام میں خانہ جنگی کے دوران نواسی رسول بی بی زینب بنت علی رضی اللہ عنھا اور نبی ...
سیاست -
دمشق میں مزارات کے تحفظ کے لیے غیر ملکی جنگجو تعینات
شامی حکومت کی حمایت میں لڑنے کے لیے آنے والوں میں پاکستانی بھی شامل
مشرق وسطی -
موصل میں داعش کا ترک قونصل خانے پر کنٹرول
قونصل جنرل اور خصوصی فورسز کے دستوں سمیت 76 ترکوں کو یرغمال بنا لیا
مشرق وسطی -
موصل پر داعش کا قبضہ، پانچ لاکھ افراد کی ہجرت
زیر قبضہ علاقوں میں اہم عمارات پر مسلح افراد تعینات
مشرق وسطی -
موصل پر اسلامی عسکریت پسند داعش کا قبضہ
گورنر کی اہل شہر سے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل
مشرق وسطی -
عراق: دوسرے بڑے شہر موصل کے ہوائی اڈے کی بندش
وزیراعظم نوری المالکی کا کسی وضاحت کے بغیر ہوائی اڈا بند کرنے کا حکم
مشرق وسطی