.

شاہ عبداللہ کا دہشت گردی مخالف مشترکہ مؤقف پر زور

غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر عالمی برادری کی خاموشی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے مذہبی رہ نماؤں پر زوردیا ہے کہ وہ اسلام کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے سے بچانے کے لیے انصاف سے متعلق مشترکہ موقف اپنائیں۔ انھوں نے غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی کی مذمت کی ہے۔

شاہ عبداللہ نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس وقت مسلم دنیا ایک تاریخی اور نازک دور سے گزر رہی ہے۔دہشت گرد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہوگئی ہے مگر وہ مخمصے کا شکار ہیں اور شرمناک بات یہ ہے کہ وہ مذہب کے نام پر لوگوں کو قتل کررہے ہیں حالانکہ اللہ نے کسی کی ناحق جان لینے سے منع فرمایا ہے ''۔

خادم الحرمین نے کہا کہ ''اسلام کا ان غدار دہشت گردوں کے افعال سے کوئی تعلق نہیں ہے''۔شاہ عبداللہ نے بیان میں اسرائیل کا براہ راست نام تو نہیں لیا لیکن اس کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''دہشت گردی کی بہت سی شکلیں ہیں اور سب سے خطرناک ریاستی دہشت گردی ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''فلسطین میں ہمارے بھائیوں کا خون بہایا جارہا ہے۔گروپ اور ممالک دونوں ہی دہشت گردی کے مرتکب ہورہے ہیں اور یہ سب کچھ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں سمیت عالمی برادری کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے۔غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جارہا ہے''۔

سعودی فرمانروا نے بہت سے مسلم ممالک میں ہونے والی اتھل پتھل اور شورش پر عالمی برادری میں ''اختلافات'' پر تنقید کی اور کہا کہ اس خاموشی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ''اس ماحول میں ایک ایسی نسل پروان چڑھے گی جو ڈائیلاگ میں نہیں بلکہ تہذیبوں کے تصادم میں یقین رکھتی ہوگی''۔