.

قرآن صنفی امتیاز کا حکم نہیں دیتا: برطانوی عالم دین

گھروں تک رہنے کا حکم صرف امہات المومنین کے لیے تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے معروف سنی عالم دین احتشام علی نے کہا ہے کہ قرآن پاک میں صنفی امتیاز کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ احتشام علی محمہ جیل کے لیے مسلم مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامک سو سائٹی آف برطانیہ کے سابق صدر بھی ہیں۔

انہوں نے اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا خواتین کو گھروں تک محدود رہنے کا جو حکم قرآن میں دیا گیا ہے وہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے لیے تھا۔ واضح رہے قرآن میں حکم ہے '' اپنے آپ کو گھروں میں رکھو اور اس طرح سامنے نہ آو جیسا کہ عورتیں خود زمانہ جاہلیت سامنے لاتی تھیں۔''

عالم دین احتشام علی کے مطابق یہ فرمان صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں یعنی امہات المومنین کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا '' میں نے اس امر پر تشویش محسوس کی کہ خواتین کو ایک سیمینار میں علماء نے الگ بیٹھنے کے لیے اصرار کیا۔

بعد ازاں مجھے فتوے میل ہونا شروع ہو گئے، انہوں نے کہا ہمیں خود کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے برابر لانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے بقول آپ برابری نہیں کر سکتے اگر نبی اکرم ایسا نہ کہیں،احتشام علی نے زور دیا کہ مسلمانوں کو اسلامی شریعت پر تنقیدی انداز سے غور کرنا چاہیے اور علماء کی طرف سے دیے گئے فتووں پر بھی۔