اوباما نے مزید 350 فوجی عراق بھیجنے کی منظوری دیدی

اس سے پہلے بھی آٹھ سو سے زائد امریکی فوجی موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے 350 مزید امریکی فوجیوں کو عراق بھجوانے کا حکم جاری کردیا ہے۔ اس فوجی دستے کے بھجوانے کا مقصد عراق میں امریکی سفارت کاروں اور امریکی شہریوں کا تحفظ بتایا گیا ہے ۔

صدر اوباما کی طرف سے یہ حکم اس اطلاع کے تھوڑی دیر بعد سامنے آیا جس میں بتایا گیا تھا کہ داعش کے ہاتھوں ایک اور امریکی صحافی اسٹیون سوٹلوف کا سر قلم کردیا گیا ہے اور سر قلم کرنے کی ویڈیو انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔

خیال رہے داعش نے عراق کے شمالی علاقوں میں قبضے کے بعد خلافت کے قیام کا اعلان کر رکھا ہے۔ جبکہ امریکا نے عراق میں اس کے ٹھکانوں کے خلاف گذشتہ ماہ سے فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

وائٹ ہاوس کی طرف جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر نے محکمہ دفاع کو اختیار دیا ہے کہ وہ دفتر خارجہ کی درخواست پر عمل درآمد کرتے ہوئے 350 اضافی فوجی عراق بھجوائے جائیں، تاکہ عراق میں امریکی شہریوں کی حفاظت کر سکے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا داعش سے خطرات کی شکار عراقی حکومت کی امداد جاری رکھے گا۔ بیان کے مطابق عراق سمیت پورے مشرق وسطی میں امریکی مفادات کو داعش سے خطرات لاحق ہیں۔

خیال رہے اس سے پہلے بھی عراق میں امریکا کے آٹھ سو سے زائد فوجی موجود ہیں۔ جن میں تقریبا تین سو امریکی افسر اور اہلکار عراق حکومت اور فوج کے لیے مشاورت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں