مرسی پر اہم ملکی راز ایران، قطر کو دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی ملٹری انٹیلی جنس سے وابستہ ایک سابق فوجی افسر میجر جنرل ثروت جودہ نے انکشاف کیا ہے کہ معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی اہم ملکی راز ایران اور قطر کو فراہم کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی دوسرے صدر کی طرح ڈاکٹر محمد مرسی کو بھی اہم معاملات سے فوری طور پر آگاہ کرتے تھے لیکن ہمیں اس وقت حیرت ہوئی جب پتا چلا کہ ہمارے بتائے ہوئے راز ایران اور قطر کو مہیا کیے گئے ہیں۔

میجر جنر جنرل جودہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر محمد مرسی خفیہ اداروں سے مختلف شخصیات اور ممالک کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرتے رہتے تھے۔ انہیں کسی اہم شخص کے بارے میں کوئی شک وشبہ ہوتا تو وہ اس کے بارے میں بھی جان کاری حاصل کرتے۔

انہوں‌ نے کئی بار امریکا، ایران اور اسرائیل کے بارے میں اہم نوعیت کی فائلیں طلب کیں۔ عام طور پر اس نوعیت کی دستاویزات با آسانی کسی بھی اہم حکومتی شخصیت کو نہیں دی جاتیں۔ ہم حیران رہ جاتے کہ جو معلومات ہم نے صدر مملکت کو دی تھیں وہ ایران اور دوسرے ممالک تک کیسے پہنچیں؟

انہوں نے مثال کے طور پر بتایا کہ صدر نے مصر میں ایران کے نمائندہ سفارتی مشن کے بارے میں معلومات حاصل کیں جو انہیں مہیا کر دی گئیں۔ ان دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ کچھ ایرانی عناصر مصر میں افراتفری کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انٹیلی جنس ادارے نہ صرف ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر انہیں گرفتار بھی کر لیتے ہیں۔ ان کے فراہم کردہ یہ راز بعد میں ایران سے بھی افشاء ہوئے۔

ایک اور سوال کے جواب میں جنرل جودہ کا کہنا تھا کہ صدر محمد مرسی انٹیلی جنس اداروں اور وزارت خارجہ کو بتائے بغیر دوسرے ممالک کے دوروں پر روانہ ہو جاتے۔ ان کے تمام دوروں کی تفصیلات اور ان کی تیاری اور انتظامات کی نگرانی ان کے اسٹاف افسر عصام الحداد کرتے اور وہ بہت سے اہم قومی رازوں سے بھی واقف تھے۔ عصام الحداد صدر کی بہت سے مصروفیات کو قانون نافذ کرنے والے خفیہ اداروں سے بھی پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل ثروت جودہ نے کہا کہ ان پاس صدر محمد مرسی کے امریکی تحقیقاتی ادارے"سی آئی اے" کے لیے جاسوسی کے بھی مصدقہ ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے 25 جنوری 2011ء کے انقلاب سے قبل امریکی خفیہ اداروں سے رابطے قائم کر رکھے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلسطینی تنظیم حماس، ایران، قطر اور ترکی کو اہم قومی راز فراہم کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں