.

بن لادن کی میت 136 کلو وزنی آہنی تاروں میں سمندر برد کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے"سی آئی ے" کے سابق سربراہ لیون پنیٹا نے اپنی تازہ مطبوعہ کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں یکم مئی 2011ء کو پراسرار آپریشن میں ‌ہلاکت کے بعد اس کی میت کو 300 پاؤنڈ یعنی 136 کلو گرام وزنی آہنی تاروں میں لپیٹ کر سمندر برد کیا گیا تھا تاکہ لاش تیرنے کے بجائے پانی میں ڈوب جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیون پنیٹا کی تازہ کتاب"Worthy Fights" ۔۔ پُرخطر معرکے" حال ہی میں منظرعام پرآئی ہے۔ مجموعی طور پر 498 صفحات کو محیط اس کتاب میں امریکا کی افغان اور عراق جنگوں کے احوال و واقعات کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔

مسٹر پنیٹا لکھتے ہیں کہ یکم مئی 2011ء کو ایبٹ آباد آپریشن میں مارے جانے والے اسامہ بن لادن کی میت ایک تیز رفتار طیارے کے ذریعے سمندر میں موجود بحری بیڑے"یو ایس ایس کارفنسن" پر لائی گئی۔ اسی بیڑے پراسلامی طریقے کے مطابق مقتول کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اسے سفید کپڑے کا کفن پہنایا گیا۔ عربی ہی میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بعد ازاں میت کو آہنی تاروں میں لپیٹ کرایک صندوق میں ڈالا اور سمندر برد کردیا۔ تاہم انہوں ‌نے صندوق کی ماہیت کے بارے میں نہیں ‌بتایا کہ آیا وہ کس چیز سے بنایا گیا تھا۔ سمندر میں‌ پھینکے جانے کے بعد وہ صندوق تیزی کے ساتھ گہرے پانی میں ڈوب گیا۔

لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ آہنی تاروں میں میت کولپیٹ کرسمندر برد کرنے کا مقصد لاش کو گہرے پانی میں ڈبونا تھا۔ وہ اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ لوہے کی کئی من وزنی تاروں میں لپیٹ پر سمندر برد کی گئی لاش سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں چلی گئی ہےجہاں اس کا سراغ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد کے ایک حساس علاقے میں موجودگی کے سوالیہ نشان کے ساتھ ساتھ امریکی میرینز کا آپریشن بھی تہہ درتہہ پراسرار واقعات کے پردوں میں بند ہے۔ کچھ عرصے بعد اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ان کی میت کے سمندر برد کیے جانے کی کوئی نہ کوئی نئی توجیح سامنے آجاتی ہے۔ میت کوتاروں میں لپیٹ کرسمندر میں پھینکے جانے کا انکشاف لیون پنیٹا نے پہلی بار کیا ہے۔