یمن کے سابق صدر حوثی باغیوں کے حامی نکلے
حکومت کے خلاف بغاوت میں حوثیوں اور علی صالح کا خفیہ گٹھ جوڑ طشت از بام
یمن میں زیدی فرقے کے اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے حوثیوں کے دو ماہ سے جاری پرتشدد مظاہروں کے بعد اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ حکومت کے خلاف حوثیوں کی بغاوت میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کا بھی ہاتھ ہے۔ حوثی شدت پسندوں اور علی صالح نے ایک خفیہ گٹھ جوڑ کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
آن لائن اخبار ’’الوئام‘‘ نے باثوق ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حوثیوں کے حکومت کے خلاف مسلح مظاہروں سے قبل علی عبداللہ صالح، ان کے وفاداروں اور حوثیوں کا ایک مشترکہ خفیہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں افراتفری پھیلانے اور حکومت کو کمزور کرتے ہوئے اس کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں اور علی عبداللہ صالح نے حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے خفیہ اجلاس میں حوثیوں کی جانب سے حسین العزمی نے شرکت کی۔ العزمی حوثیوں کے سیاسی شعبے کے سینئر رکن ہیں اور مختلف معاہدوں میں انہیں حوثیوں کی نمائندگی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ اجلاس میں جنرل نیشنل کانگریس کے رکن عارف الزوکہ اور کچھ دوسرے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران سعودی عرب کے شہر جدہ میں مقیم علی صالح کے ایک وفادار سلطان البرکانی سے بھی رابطہ کیا گیا اور ان سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی۔
خفیہ میٹنگ کے شرکاء نے سلطان برکانی سے کہا کہ وہ سعودی عرب میں حوثیوں کی حمایت اور یمنی حکومت کی مخالفت میں رائے عامہ ہموار کریں، جب حوثی صنعاء پر قبضہ کر لیں تو سعودی عرب میں یہ تاثر قائم کیا جائے کہ حوثیوں کے مطالبات حق بہ جانب ہیں اور انہوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے جو قدم اٹھایا ہے وہ درست ہے۔ اس موقع کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے لیےحمایت حاصل کریں۔ نیز یہ ثابت کریں کہ حوثیوں کا مقابلہ القاعدہ کے خلاف ہے اور حکومت القاعدہ کا تحفظ کر رہی ہے۔
حکومت کے خلاف سازش کی خفیہ میٹنگ میں پہلا نقطہ یہ طے کیا گیا کہ سعودی عرب میں موجودہ یمنی حکومت اور جنرل نیشنل کانگریس کی قیادت کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کیا جائے تاکہ ریاض کا ان پر اعتماد ختم ہو جائے۔ سعودی حکومت ان کے بجائے حوثیوں کو حق بہ جانب سمجھے۔ یہ سب کچھ خفیہ اور عجلت میں ہونا چاہیے تاکہ کسی کو غلط معلومات کی چھان بین کا موقع ہی نہ ملے اور سعودی حکام کے قلب وذہن میں حوثی مخالفین کے بارے میں شکوک شبہات پیدا کیے جائیں۔
دوسرے مرحلے میں سعودی عرب کے فیصلہ ساز حلقوں پر اثر انداز ہو کر ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ ان کی یمنی حکومت کے بارے میں ہمدردیاں ختم ہو جائیں اور انقلابیوں کے بارے میں نرم گوشہ پیدا ہو۔
اجلاس میں تیسرا اہم نقطہ جس زور دیا گیا وہ اندرون ملک حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں بہ ظاہر حوثیوں کے خلاف نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے کرائے جائیں، جن کے ہاتھوں میں القاعدہ کے پرچم تھمائے جائیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ حکومت القاعدہ جنگجوئوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور ان کا مقابلہ حوثیوں کے ساتھ ہے۔ القاعدہ جنگجو ہی یمن میں اہل سنت اور قبائلی رہ نمائوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔
چوتھے مرحلے میں سعودی عرب اور خطے کے بعض دوسرے ممالک کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا جائے اور انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ یمن میں حکومت کی تبدیلی وقت کی اہم ضروت ہے اور حوثیوں اور ان کے حامی قبائل کے مطالبات درست ہیں۔ اگر وہ حوثیوں کی تحریک کی حمایت نہ کریں تو انہیں ڈرایا جائے کہ حوثیوں کی بات نہ مانی گئی تو یہ تحریک ان کے ملکوں میں بھی داخل ہو سکتی ہے۔
-
صنعاء میں حوثیوں کی عسکریت پسندی کےخلاف مظاہرے
حوثی شدت پسندوں کے مسلح جتھوں میں اضافہ
بين الاقوامى -
حوثی باغیوں کا یمنی میجر جنرل کے گھر پر قبضہ
یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں نے فوج کی ایلیٹ فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کے ...
بين الاقوامى -
یمن: القاعدہ کے ہاتھوں 20 سے زائد حوثی باغی ہلاک
باغیوں کو قبائل اور القاعدہ کی طرف سے مزاحمت کا سامنا
مشرق وسطی -
حوثی شدت پسندوں کے ہاتھوں یمنیوں کا قتل عام جاری
قبائلی سردار کے پانچ اہل خانہ قتل، گھر مسمار کر دیا گیا
بين الاقوامى -
یمن کی سب سے بڑی بندرگاہ پر حوثی باغیوں کا قبضہ
یمن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ شیعہ مسلک حوثی باغیوں نے بحیرہ ...
بين الاقوامى -
حوثی جنگجوؤں کی مداخلت روکنے کے لیے یمنی فوج کا گشت
مفاہمتی کمیٹی ہمدان کے متحارب فریقین میں صلح کرانے میں ناکام
بين الاقوامى