.

تیونس: پولیس سے مسلح جھڑپیں، دو افراد ہلاک

تیونس میں عام انتخابات کے موقع پرلیبیا کےساتھ سرحد سیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں قومی انتخابات کے انعقاد سے صرف تین روز قبل ملک کے دو علاقوں میں پولیس کی مشتبہ جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں اور ان میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دارالحکومت تیونس کے نواحی علاقے عوید علیل میں فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے مشتبہ جنگجوؤں کے زیراستعمال ایک مکان کا محاصرہ کر لیا ہے۔فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس افسر ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

تیونسی وزیرداخلہ کے ترجمان محمد علی عروئی نے بتایا ہے کہ محاصرہ زدہ مکان سے خواتین اور بچوں کو نکالنے کے لیے بات چیت جاری تھی اور وہ اندر موجود مسلح افراد کے خاندان کے ارکان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد اتوار کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل ملک میں گڑبڑ پھیلانا چاہتے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق آس پاس کے مکانوں کی گیس اور بجلی منقطع کردی گئی ہے۔

قبل ازیں جمعرات کی صبح پولیس نے ملک کے جنوب میں واقع علاقے قبلی میں آتشیں رائفلوں سے مسلح دوافراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک راہگیر مارا گیا ہے۔ترجمان علی عروئی کا کہنا ہے کہ گرفتار مسلح افراد دہشت گردی کے حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

تیونس میں اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسلامی انتہا پسند پولنگ سے قبل گڑ بڑ پھیلانا چاہتے ہیں۔تیونسی وزیرداخلہ لطفی بن جدو نے پولنگ کے دوران امن وامان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے ملک کی لیبیا کے ساتھ واقع سرحد کو جمعہ سے اتوار تک تین دن کے لیے سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بدامنی کا دور دورہ ہے۔دارالحکومت طرابلس اور مشرقی شہر بن غازی میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان گذشتہ کئی سے خونریز جھڑپیں جاری ہیں اور اس وقت دو مختلف حکومتیں اپنے اپنے زیر نگیں علاقوں میں بروئے کار ہیں۔ لیبیا میں بد امنی کی وجہ سے جنگجو پڑوسی ممالک میں بھی آزادانہ طور پر آتے جاتے رہتے ہیں اور بعض مغربی سفارت کاروں کے بہ قول لیبیا القاعدہ اور دوسرے جنگجو گروپوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔