.

ایبولا، ویکسین کی لاکھوں خوراکوں کی تیاری شروع: عالمی ادارہ صحت

اگلے سال تک ویکسین کی تکمیل کا ہدف، فنڈز فراہمی کا انتطار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت نے مغربی افریقہ سے ایبولا کے بین الاقوامی سطح پر ابھرنے والے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی لاکھوں خوراکوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔

ادارہ صحت کے مطابق اس حوالے سے دو ویکسینز کی تیاری 2015 تک ممکن ہو جائے گی۔ جبکہ پانچ دیگر ویکسینز کی آزمائش مارچ 2015 تک مکمل کر لی جائے گی۔

تاہم عالم ادارہ صحت ابھی اس بارے میں یکسو نہیں ہے کہ یہ ویکسینز اس مہلک ایبولا وائرس کے خلاف موثر ہو سکیں گی یا نہیں۔ واضح رہے ایبولا وائرس کی وجہ سے مغربی افریقہ میں چار ہزار آٹھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ماری پالے کینے نے بتایا یہ ویکسینز 2015 میں مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی تاہم اس کے لیے ضروریی ہے کہ ان کی آزماۃش پہلے ممکن ہو جائے۔

ڈاکٹر ماری کے مطابق ویکسینز ہر طرح کے مضر اثرات سے پاک انسانی قوت مدافعت کو بڑھانے والی ہوں گی۔ دو آزمائی جانے والی جدید ترین ویکسین میں سے ایک ادویہ ساز ادارے گلیکسوسمتھ کلن اور امریکی قومی ادارہ برائے صحت کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری جدید ترین ویکسین کینیڈا کے ادارے پبلک ہیلتھ ایجنسی نے تیار کی ہے۔

ڈاکٹر ماری کا کہنا ہے ویکسین اس سے پہلے ہی امریکا، برطانیہ اور مالی میں بروئے کار ہے لیکن اس ویکسین کو جادو بہر حال نہیں مانا جاتا لیکن جب مکمل تیار ہو گی تو ایبولا کے خلاف کوششوں میں ایک اچھی کاوش سمجھی جائے گی۔

اس ویکسین کے کے حوالے سے تجربات کی اہم ترین جگہ مغربی افریقہ ہے جو ایبولا متاثرین کا سب سے اہم مرکز ہے۔

اس بارے میں ادویہ ساز کمپنی گلیکسو کا کہنا ہے کہ ہرماہ ایک ملین خوراک تیار کی جاسکے گی ۔ ڈاکٹر ماری کینے نے مزید کہا '' ایبولا سے متعلق دوسری پانچ ویکسینز کی آزمائش مارچ میں شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان جدید ترین ویکسینز کی تیاری کہاں کہاں ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر کینے نے کہا ایبولا کے مرض میں اضافے کے ساتھ ہی مختلف سطحوں پر اس کے علاج اور روک تھام کے لیے کوششیں شروع ہو گئی ہیں، اس سلسلے میں کسی بڑے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ویکسین کا بڑا ذخیرہ چاہیے ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا مغربی افریقہ میں ابھی ویکسین کی ترسیل کی جانا ہے۔ ابھی یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ اس ویکسین کے لیے وسائل کون فراہم کرے گا۔ ڈاکٹر کینے نے بتایا سرحدوں سے ماوارا انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کی تنظیم نے اس مقصد کے لیے فنڈ ریزنگ کا بھی کہا ہے۔