تیونس میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ

عرب بہاریہ انقلاب کے بعد ملک میں پہلے انتخابات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تیونس میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور پولنگ مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

14 جنوری 2011ء کو تیس سال سے مسند اقتدار پر فائر صدر زین العابدین کی ایک زبردست عوامی احتجاج کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں یہ پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ انتخابات میں 5.3 ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں اور وہ 217 ارکان پر مشتمل پارلیمان منتخب کریں گے۔

انتخابی عمل کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ بنانے کے لئے فوج، نیشنل گارڈز اور پولیس پر مشتمل 80 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔تیونس کی حالت اس کے ان ہمسایہ ملکوں سے قدرے بہتر ہے جہاں خود تیونس سے اٹھنے والی عرب بہاریہ کی لہر میں کئی دہائیوں سے اقتدار پر قابض حکام عوامی احتجاج کے سامنے دم نہ مار سکے۔ تیونس بن علی کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد بدامنی کا زیادہ شکار نہیں رہا جتنا مصر اور لیبیا میں حکمرانوں کی اقتدار سے بیدخلی کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔

زین العابدین کی معزولی کے بعد تیونس میں اکتوبر 2011ء میں تحریک نہضۃ اسلامی ملک کے پہلے شفاف انتخاب میں کامیاب ہوئی، تاہم آج اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ اس کے نتیجے میں ملک کو انقلاب کے چار برس بعد آزاد ادارے بنانے کا موقع ملے گا۔

امسال جنوری میں مجلس قانون ساز کے تیارکردہ نئے دستور میں پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کو بہت زیادہ اختیارات دیے گئے جبکہ دستور کے مطابق صدر کو بہت محدود اختیارات دیے گئے ہیں۔ پارلیمانی انتخاب کے بعد صدارتی انتخاب اسی سال 23 نومبر کو ہوں گے۔

سیاسی پنڈت انتخابات میں 'نہضۃ اسلامی' کو ہاٹ فیورٹ قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس جماعت نے سنہ 2012ء کے اوائل سے اس سال کے آغاز تک اقتدار سنبھالے رکھا جبکہ انہیں 'ندا تیونس' نامی حزب اختلاف مشکل چیلنچ دے سکتی ہے کیونکہ اس میں شامل معزول صدر زین العابدین کے حاشیہ بردار اور حکومت مخالفین انتخاب میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

'ندا تیونس' کے رہنما محسن مرزوق نے پیش گوئی کی ہے کہ اتوار کو ہونے والے انتخابات کے بعد وہ ملک میں 'معلق پارلیمنٹ' بنتی دیکھ رہے ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق اسلام پسند نہضہ اور ان کی جماعت 150 کے قریب نشتیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ادھر اس سال کے آغاز میں اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہونے والی 'نہضہ اسلامی' کا کہنا ہے کہ وہ ملکی نظام چلانے کے لئے قومی اتفاق رائے کی حکومت چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے کامیابی کی صورت میں 'نداء تیونس' کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے۔ نہضہ اسلامی کو سنہ 2013ء میں دو اسلام پسندوں کی ہلاکت کے بعد سیاسی بحران کا سامنا رہا ہے۔

تیونس الیکشن کمیشن نے اعلامیے میں بتایا ہے کہ پارلیمانی انتخاب کا نتیجہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سامنے نہیں آ سکے گا جبکہ اسے 30 اکتوبر کو نئی پارلیمنٹ کی تشکیل کا اعلان کرنا ہے۔ تاہم سیاسی جماعتیں اپنے طور پر ووٹوں کی گنتی کے غیر سرکاری نتائج کا اعلان کر سکتی ہیں۔

درایں اثنا تیونس کے وزیر اعظم مھدی جمعہ نے پارلیمانی انتخابات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان سے پورے خطے کی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ عرب بہاریہ کا مسکن بننے والے متعدد عرب ملک اندرونی خلفشار کا شکار ہیں۔

نہضت اسلامی کے سربراہ راشد الغنوشی نے انتخابی مہم کے اختتام پر اپنے پیغام میں کہا کہ "ہم تاریخی موڑ پر ہیں۔ ہمارے سامنے جمہوریت کی عید ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں