.

مصر میں سلفیوں اور سول سوسائٹی کے مظاہروں کی کال

فوجی کمانڈر کا تحریر اسکوائر کا دورہ، انتظامات کا جائزہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون اور سلفی مسلک کی جماعتوں کی جانب سے آج [بروز جمعہ] سے فوجی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب مصری فوج نے بھی مظاہرین کو قابو میں رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فوج کے سینٹرل ایریا کمانڈر میجر جنرل توحید توفیق نے مظاہروں کے مرکز تحریر اسکوائر کا اچانک دورہ کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کی جانب سے کسی قسم کی بدنظمی پھیلانے سے روکنے کے لیے سخت انتظامات کی ہدایت کی۔

قبل ازیں مصری پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے المنیا شہر میں بدنظمی پھیلانے کے لیے اخوان المسلمون کی ایک سازش ناکام بنا دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابو قرصاص شہر میں ایک مکان پر چھاپہ مار کرکئی اخوانی عناصر کو حراست میں لیا ہے جو آج جمعہ کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران فوجی یونیفارم میں ملبوس افراد کے ذریعے توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

مصری پولیس کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی آڑ میں المنیا شہر میں توڑ پھوڑ کی اسکیم تیار کی گئی تھی۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کر کے اسامہ عصمت عبدالعزیز، احمد نجاح محمد عبدالکافی، محمد خلیل محمد الکافی، عماد عبدالناصر عبدالعلیم، ھشام محمود عبدالباقی، علی عبدالوھاب علی، محمد عبدالوھاب علی، مصطفیٰ عبدالوھاب علی، ھلال عبدالجواد، محمود فواد شحاتہ اور دیگر کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار شدگان کی عمریں 20 سے 50 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

حراست میں لیے گئے اخوانی کارکنوں کے قبضے سے موبائل فون، فوج اور پولیس اہلکاروں کی وردیاں اخوان المسلمون کے احتجاجی مظاہروں کی فوٹیجز ضبط کی گئی ہیں۔