داعش کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال جائز ہے: پوپ

مسلمان داعش کے خلاف بہادری سے آواز اٹھائیں: پوپ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مسیحی پوپ فرانسس نے داعش کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔ اس امر کا اظہار پوپ فرانسس نے ترکی کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر کیا ہے۔

مسیحی پوپ نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی داعش کے خلاف پوری بہادری سے آواز اٹھائیں۔ مسیحی پوپ بین المذہب تعلقات کے لیے ترکی کے پہلے دورے کے دوارن مذہبی اور سیاسی قائدین سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

پوپ نے ترکی کے سب سے بڑے مذہبی رہنما مہمت گورمیز اور دیگر مذہبی قائدین سے حکومت کی مذہبی نظامت میں ایک اجلاس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا '' ہم اس پر ممنوں ہیں کہ ہر ایک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی عظمت سے متصادم اقدامات کی مذمت کی ہے۔''

پوپ نے مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مکالمے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ پوپ نے داعش کی طرف سے عراق میں مسیحیوں کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کی۔

ویٹیکن سے تعلق رکھنے والے اس پوپ نے عراق میں دوہزار سال پہلے سے آباد مسیحیوں کو ان کے گھروں اور شہروں سے نکالے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں واپس ان کے گھروں کو جانے دیا جائے۔

پوپ کا تین روزہ دورہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ترکی سولہ لاکھ شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہے۔ ترکی نے بھی انتہا پسند داعش کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی بات کی ہے۔

یاد رہے ترکی اور امریکا کے درمیان ایک نو فلائی زون بنانے اور اتحادیوں کی مدد کے معاملے پر ابھی بات چیت جاری ہے۔

ترکی پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ کہ اس نے داعش کے جنگ جووں کے شام جانے سے آنکھیں بند کیے رکھی ہیں۔ ترکی کے مذہبی رہنما نے پوپ کو انتہا پسندوں کے خلاف ترکی کے خیالات سے آگاہ کیا۔

اس حوالے سے صدر طیب ایردوآن اور گورمیز دونوں نے مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف پائے جانے والے فوبیا کا بھی ذکر کیا اور کہا مسلمانوں کے بارے میں تعصب کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

مسیحی پوپ نے ترکی کو مغرب اور مشرق کے درمیان ایک پل قرار دیا اور کہا اس میں تمام ثقافتوں کے لوگ موجود ہیں۔ پوپ نے ترکی پہنچنے کے بعد مصطفیٰ کمال پاشا کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں