ریاض کے عرب ملکوں سے دوستانہ مراسم ہیں: ایرانی عہدیدار
ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین اور سابق وزیر دفاع علی شمحانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک کے سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’’ایرنا‘‘ کے مطابق علی شمحانی نے ان خیالات کا اظہار عرب اکثریتی صوبہ الاھواز کے عبادات اور المحمرہ شہروں کے دوروں کے دوران تقریبات سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران عرب اور مسلمان ممالک کے تمام حل طلب مسائل کے منصفانہ حل پریقین رکھتا ہے بالخصوص شام، عراق، لبنان اور غزہ کے مسائل کے حل کے لیے ہرممکن مدد جاری رکھے گا۔
علی شمحانی کا کہنا تھا کہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ تمام عرب ممالک کو چاہیے کہ وہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے باہمی بات چیت کے ذریعے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ایران مفاہمانہ انداز میں تمام مسائل کا حل چاہتا ہے اور یہی اسلوب عرب ممالک کے بھی مناسب ہے۔
خیال رہے کہ علی شمحانی کا تعلق نہ صرف خود ایران کے عرب اکثریتی علاقے اھواز سے ہے بلکہ وہ اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی مناصب پر فائز ہوتے ہوئے ایران۔ سعودی عرب تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں رہے ہیں۔
ایران میں علی شمحانی کو سعودی عرب۔ایران تعلقات کے قیام کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ وہ سابق صدر محمد خاتمی کے دور حکومت میں ایران کے وزیر دفاع کی حیثیت سے سعودی عرب کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔ جہاں انہیں مملکت کے اعلیٰ ترین اعزاز شاہ عبدالعزیز میڈل سے بھی نوازا گیا۔ سعودی عرب میں بھی علی شمحانی کی مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
وزیر دفاع کی حیثیت سے علی شمحانی نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے قابل قدر مساعی کیں اور وہ تمام سیکیورٹی رکاوٹیں دور کرنے کی مقدور بھرکوشش کی جن کی وجہ سے دونوں ملک ایک دوسرے سے کھچے کھچے رہے ہیں۔
شام میں تین سال قبل صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی بغاوت کے تناظر میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کو دورہ سعودی عرب کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے دعوت قبول کی ہے مگر ابھی تک ان کے دورے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔