.

محمد خامنہ ای کے الزامات 'احمقانہ' ہیں: رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی گارڈین کونسل کے چیئرمین اور سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بڑے بھائی محمد خامنہ ای کی جانب سے عاید الزامات پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں 'احمقانہ اور بغض وعناد' پر مبنی سوچ کا مظہر قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ آیت اللہ محمد خامنہ ای نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں الزام عاید کیا تھا کہ گارڈین کونسل کے سربراہ ہاشمی رفسنجانی سپریم لیڈر کا منصب ہتھیانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیز ان کے امریکا کے ساتھ خفیہ روابط بھی قائم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اعتدال پسند سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں محمد خامنہ ای کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیاہے کہ محمد خامنہ ای نے جو پروپیگنڈہ کیا ہے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی کسی بھی معتبر شخصیت کے شایان شان نہیں ہے۔ انہوں نے من گھڑت الزامات عاید کرکے اپنے دل میں موجود بغض اور کینے کا خود ہی اظہار کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ محمد خامنہ نے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے خلاف زہر افشانی مرشد اعلیٰ کی قرابت داری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کی ہے۔ محمد خامنہ ای جیسی شخصیات کو آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی پر الزام تراشی سے قبل اتنا ضرور سوچنا چاہیے کہ ان کے (رفسنجانی) کے بانی اسلامی انقلاب آیت اللہ امام خمینی کے ساتھ کیسے تعلقات قائم رہے ہیں؟

بیان میں کہا گیا ہے کہ محمد خامنہ ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں میں بغض، کینہ اور حسد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام تراشی میں امام خمینی کو بھی معاف نہیں کیا۔ یہاں تک وہ یہ بھی کہتے پائے گئے تھے کہ ایرانی انقلاب امریکا کی پیداوار ہے۔
خامنہ ای کی جانشینی کا تنازع

ایران میں گذشتہ ستمبر میں اس وقت سیاسی اور مذہبی حلقوں میں یہ بحث چل نکلی تھی کہ آیا ملک کے طاقتور ترین شخصیت آیت اللہ علی خامنہ کی وفات کے بعد ممکنہ طور پر ان کا جانشین کون ہو گا۔ یہ بحث اس وقت چلی جب خامنہ سخت علیل تھے اور انہوں نے دربار عام میں آنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ ان کی بگڑتی صحت کے دوران ان کے متوقع جانشینوں کے نام بھی سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔

ان میں سابق صدر اور گارڈین کونسل کے سربراہ آیت اللہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا نام بھی شامل تھا۔ اعتدال پسند حلقوں کی جانب سے اب بھی 80 سالہ ہاشمی رفسنجانی کو سپریم لیڈر کی جانشینی کی توقعات رکھنے والے امیدواروں میں نہایت مضبوط شخصیت سمجھا جاتا ہے۔