.

’فلسطین امن منصوبہ ایک پھر امریکی ہاتھوں میں یرغمال‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام اور فلسطین۔اسرائیل مذاکرات کی بحالی کے ضمن میں امریکا کی مساعی اپنی جگہ مگر کسی عالمی فورم میں امریکا فلسطینی ریاست کی حمایت کے مطالبے پر مبنی قرارداد کی مخالفت کرنے کی اپنی سابقہ روایت پر قائم ہے۔

گذشتہ روز فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور دو سال میں اسرائیل کے مقبوضہ عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے کی قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل میں تقسیم کیا گیا۔ امریکا نے اس موقع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر پیش کی گئی کسی بھی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا۔

امریکی حکومت کے ایک اہم عہدیدار نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ مشروط قیام امن کے حوالے سے فلسطینیوں کی پیش کردہ قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان جین پاسکی نے کہا کہ واشنگٹن کو فلسطینی اتھارٹی کی قرارداد کے متن کا پتا چلا ہے جسے سلامتی کونسل کے ارکان میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں ایسی کوئی بات نہیں جس کی حمایت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی قراراداد کی مخالفت تنہا امریکا نہیں کر رہا بلکہ کئی دوسرے ممالک بھی امریکا کے ہم خیال ہیں۔ خود فلسطینی بھی امریکی اعتراض کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سفارت کاروں کا کہنا ہے سلامتی کونسل میں خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے جو قراراداد پیش کی گئی ہے اس پر یورپی یونین اور اردن کے درمیان صلاح مشورہ ہوا ہے تاہم امکان ہے کہ مشاورتی عمل مزید طول پکڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اردن نے بدھ کے روز سلامتی کونسل میں آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کی حمایت کے مطالبے پر مشتمل ایک قرارداد جمع کرائی تھی جس میں دو سال کے اندر اندر سنہ 1967ء کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تاہم فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کی ضمانت ملنے پر حسب ضرورت ترمیم کا بھی عندیہ دیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی لچک اپنی جگہ مگر دوسری طرف اسرائیل کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس بیان سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے فلسطینی ریاست کے مطالبے کی قرارداد کو ’’دھوکا‘‘ قرار دیا ہے۔