چین: مسلم اکثریتی شہر میں برقع پہننے پر پابندی عاید

پابندی کا فیصلہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ کے دارالحکومت اُرمچی میں مسلمان خواتین کے برقع پہن کر نکلنے پر پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ اس پابندی کا فیصلہ حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔

چین کے مغرب میں واقع اس شہر کی آبادی تقریبا اکتیس لاکھ ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اب اس شہر میں خواتین کو برقع پہن کر پبلک مقامات پر آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ پابندی اسی ہفتے سے نافذ العمل ہے۔

چینی حکام کا دعویٰ ہے کہ برقع یہاں کی یغور مسلم خواتین کے روایتی لباس کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم مسلمان خواتین طویل عرصے سے اسے پبلک مقامات پر جانے کے لیے پہنتی ہیں۔

اب بیلجیم٘ اور فرانس میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد چینی حکام نے برقعے کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے۔ یہ علاقہ ترک زبان بولنے والے یغور مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ہے۔ اس علاقے کو چینی ترکستان کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

سنکیانگ میں ہن چینیوں کی بھی دوسرے علاقوں سے نقل مکانی ہوئی ہے۔اس صوبے کی سرحدیں پاکستان، افغانستان اور قازقستان سے ملتی ہیں۔ اس سے پہلے بعض یورپی ممالک میں مسلمان خواتین کے نقاب کرنے پر اسی نوعیت کی پابندی لگ چکی ہے۔

چین میں مختلف اوقات میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں حکام کی طرف سے مسلمان قبائل کو ملوث بتایا گیا ہے لیکن مغربی ذرائع ابلاغ ان واقعات کے پیچھے یغور مسلمانوں اور ہن چینیوں کے درمیان نسلی بنیاد پر آویزش کو بنیادی وجہ قراردیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں چین میں لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دینے اور ان پر ناروا پابندیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کے مساجد میں جانے پر عاید پابندی کو بھی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں