.

پیرس: سپراسٹور پر حملے کی تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزارت داخلہ نے گذشتہ جمعے کے روز دارالحکومت پیرس میں ایک یہودی کے ملکیتی سپراسٹور پر مسلح شخص کے حملے کی خفیہ کیمرے سے لی گئی تصاویر جاری کی ہیں۔ ان تصاویر میں سینیگالی نژاد عسکریت پسند آمدی کولیبالی کو ’’کوشر‘‘ اسٹور میں داخل ہونے کے بعد وہاں پر موجود افراد کو گولیاں مارتے اورانہیں یرغمال بنائے دکھایا گیا ہے۔

اس مسلح شخص نے پیرس کے ایک سپراسٹور میں گھس کر چاریہودیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد ایک شیرخوار اور آٹھ خواتین سمیت 17 افراد کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا تھا۔ بعد ازاں پولیس کے ایک طویل آپریشن میں یرغمالیوں کو بازیاب کرایا گیا تھا اور حملہ آور ہلاک ہو گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپراسٹور پرحملے کے وقت کلوز سرکٹ کیمرے میں محفوظ ہونے والی تصاویر فرانسیسی وزارت داخلہ نے اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔جمعرات کو یہ تصاویر جاری کر دی گئی ہیں۔

ان تصاویر میں حملہ آور کولیبالی کوایک بلٹ پروف جیکٹ پہنے اسٹورمیں داخل ہونے کے بعد اس کی کارروائیوں کے مختلف مراحل دکھائے گئے ہیں۔ اس کے آگے نیلے رنگ کے یونیفارم میں ملبوس اسٹورکے ایک ملازم کو دکھایا گیا ہے جسے کولیبالی نے بندوق کی نوک پر چہرہ دیوار کی طرف کرکے کھڑا کر رکھا ہے۔

تصاویر کے ایک دوسرے البم میں حملہ آور کو اسٹور کے اندر کھڑے دکھایا گیا ہے جہاں اس کے اطراف میں مختلف اشیاء کی الماریاں دکھائی دے رہی ہیں اوراس کی گولیوں سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کی نعش بھی دکھائی دے رہی ہے،تاہم پولیس نے مقتول کے چہرے کو چھپا دیا ہے تاکہ اس کی شناخت ہونے سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

تصاویر کے ایک دوسرے گروپ میں کولیبالی نے اسٹور میں موجود دو درجن افراد کو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں یرغمال بنائے دکھایا گیا۔ اسی گروپ میں ایک شیرخوار وہیل کرسی بھی دکھائی دیتی ہے۔ اگلی ایک تصویرمیں پولیس فائرنگ کے بعد کولیبالی کو مردہ حالت میں دکھایا گیا ہے۔ کولیبالی کو پولیس کی فائرنگ سے40 گولیاں لگی ہیں۔

ایک یرغمالی نے بعد ازاں اخبار’’لوبوان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور نے اُنھیں یرغمال بنانے کے بعد اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ’’میرا نام امیدی کولیبالی ہے اور میں سینیگال کا مسلمان ہوں۔ میراتعلق دولت اسلامی(داعش) سے ہے۔ آپ لوگ اپنے موبائل فون زمین پر چھوڑ دیں‘‘۔ اس کے بعد وہ پستول لہراتے ہوئے اسٹور میں گھومنے لگا۔ اس دوران اس نے فلسطین اور فرانسیسی جیلوں کے بارے میں بھی کچھ بات کی۔