شامی باغیوں کے لیے امریکی عسکری تربیت کا آغاز
چار سو سے زائد امریکی فوجی تربیت دیں گے: ترجمان پینٹاگان
امریکا شام کے اعتدال پسند باغیوں کو عسکری تربیت دینے کے لیے چار سو فوجی اہلکار بھجوائے گا۔ پینٹاگان کے ترجمان جیمز برنڈلے نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے اس منصوبے پر جمعہ کے دن سے عمل در آمد کیا شروع کر دیا ہے۔
یہ منصوبہ امریکا کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت داعش کو پسپائی پر مجبور کرنا ہے۔ داعش نے شام کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں بڑے پیمانے پر قبضہ کر رکھا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے پچھلے ماہ اس حوالے سے ایک قانون کی منظوری دینے کے لیے قانون پر دستخط کیے تھے۔ اس قانون کے تحت داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ عراقی فوج کو تربیت دینا بھی شامل ہے۔
یہ قانون داعش کے خلاف اسلحہ فراہم کرنے اور تربیت دینے کے حوالے سے دو سال تک کی اجازت پر محیط ہے۔ اس امریکی پروگرام پر پانچ ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہو گی۔
واضح رہے امریکا کے سینئیر حکام اور شامی اپوزیشن کے رہنماوں نے پچھلے ہفتے ترکی میں ایک اہم ملاقات بھی کی تھی۔ پینٹاگان کے ترجمان نے ایک عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا امریکا کے چار سو سے زائد فوجی شامی باغیوں کو تربیت دینے کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب شام کے سرکاری خبر رساں ادارے نے اس امریکی فوجی منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی مدد قرار دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے یہ الزام بھی لگایا امریکا مسلسل دہشت گردی کی حمایت کا مرتکب ہو رہا ہے۔
شام میں دو ہزار گیارہ سے خانہ جنگی جاری ہے اور اس دوران تقریبا دولاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس عرصے میں شام کی سرکاری فوج نے مخالفین پر وحشیانہ بمباری کرنے کے علاوہ کیمائی ہتھیار بھی استعمال کیے ہیں، جبکہ اسلامی عسکریت پسندوں کا نیا ابھرنے والا گروپ داعش شام کے کئی علاقوں پر قابض ہو چکا ہے۔ امریکا اور مغربی ممالک اس کے مقابلے میں اعتدال پسند باغی گروپوں کی حمایت کرتے ہیں۔