یمنی صدر منصور ہادی عہدے سے مستعفی

پارلیمان کا صدر کا استعفیٰ قبول سے انکار،جمعہ کو ہنگامی اجلاس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

العربیہ نیوز چینل کی اطلاع کے مطابق یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی ملک میں جاری بحران پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

یمن کی پارلیمان نے صدر کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے جمعہ کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

صدر ہادی کی جانب سے جمعرات کو مستعفی ہونے کے اعلان سے چندے قبل وزیراعظم خالد بحاح نے بھی اپنی کابینہ کا صدر کو استعفیٰ پیش کردیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انھیں ملک میں ابتر ہوتی ہوئی صورت حال اور لاقانونیت کا ذمے دار ٹھہرایا جائے۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوا ہے کہ صدر منصور ہادی نے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے یا نہیں۔یمنی کابینہ کے ترجمان نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا استعفیٰ واپس نہیں لیا جائے گا۔

وزیراعظم خالد بحاح نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ''ان کی حکومت ایسے غیر تعمیری سیاسی الجھاؤ میں نہیں الجھنا چاہتی ہے جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے''۔

واضح رہے کہ خالد بحاح کی قیادت میں کابینہ نومبر میں تشکیل پائی تھی۔اس میں ٹیکنو کریٹس اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دان شامل تھے۔یمنی پارلیمان نے دسمبر میں اس؛ حکومت کو اعتماد کا ووٹ دیا تھا۔

یمنی صدر اور وزیراعظم نے حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ مذاکرات میں ایک سمجھوتا طے پا جانے کے ایک روز بعد استعفے دیے ہیں۔بدھ کو طے پائے اس سمجھوتے کے تحت حوثی باغیوں نے صدارتی محل سمیت سرکاری عمارتوں کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی نے حوثی شیعہ باغیوں کے مجوزہ آئین میں تبدیلیوں اور شراکت اقتدار سے متعلق مطالبات کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''صدر ہادی کی حکومت حوثیوں کے اگر تمام نہیں تو زیادہ تر مطالبات تسلیم کرنے جارہی ہے''۔

انھوں نے واشنگٹن میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ ''حوثیوں نے ملک میں امن اور شراکت اقتدار کے سمجھوتے اور اس کے نفاذ سے متعلق تمام مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار پر متشدد انداز اختیار کیا ہے اور اس کے نتیجے میں بعض اداروں کا بریک ڈاؤن ہوگیا ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ حوثی باغی ابھی تک منصور ہادی کو ملک کا صدر تسلیم کررہے ہیں۔

صدر منصور ہادی نے حوثیوں کے ایک عہدے دار کے ساتھ ملاقات کے بعد بدھ کی رات جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''حوثی شیعوں کو تمام ریاستی اداروں میں خدمات انجام دینے اور اسامیوں پر تعینات ہونے کا حق حاصل ہے اور مجوزہ آئین کے مسودے میں ترامیم کی جاسکتی ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے صدارتی محل ،صدر کی نجی رہائش گاہ،وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ اور میزائل بیس سے جنگجوؤں کو واپس بلانے سے اتفاق کیا ہے اور وہ ان کے چیف آف سٹاف عواد بن مبارک کو بھی جلد رہا کردیں گے۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا میں اسی ہفتے چڑھائی کرکے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا تھا اور صدر منصور ہادی کو ان کی نجی رہائش گاہ پر محصور کر دیا تھا۔وہ وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر بھی قابض ہوچکے ہیں۔ان کے لیڈر عبدالملک حوثی نے منگل کو ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ ان کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں