.

حوثی باغیوں کا صنعا یونیورسٹی پر دھاوا

اپنے خلاف مظاہرہ کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت میں حوثی شیعہ باغیوں نے جامعہ صنعا پر دھاوا بول دیا ہے اور اپنے خلاف مظاہرہ کرنے والے بیسیوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے جامعہ صنعا پر دھاوا بولنے سے قبل اس کی جانب جانے والے راستوں کو بلاک کردیا تھااور انھوں نے اس کے نزدیک واقع تغیّرچوک کے آس پاس شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔

حوثیوں کے صنعا پر قبضے کے خلاف شہریوں نے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور ان کے مخالف سیاسی کارکنان نے سوموار کو شہریوں سے مزید مظاہروں کی اپیل کی ہے۔حوثی باغیوں نے گذشتہ ہفتے صنعا پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے صدارتی محل میں داخل ہوگئے تھے اور انھوں نے صدر اور وزیراعظم کی رہائش گاہوں پر فائرنگ بھی کی تھی۔

یمنی صدرعبد ربہ منصور ہادی نے جمعرات کو ملک میں جاری بحران پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ان کے ساتھ وزیراعظم خالد بحاح بھی اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہوگئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ ''وہ نہیں چاہتے کہ انھیں ملک میں ابتر ہوتی ہوئی صورت حال اور لاقانونیت کا ذمے دار ٹھہرایا جائے''۔

یمنی پارلیمان نے ابھی تک صدر کا استعفیٰ منظور نہیں کیا ہے۔اتوار کو پارلیمان نے ایک مرتبہ پھر استعفے پر غور کے لیے اپنا اجلاس مؤخر کردیا تھا جس سے اقتدار کے خلاء کا خدشہ پیدا ہوچکا ہے۔پارلیمان کا جمعہ کو ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا لیکن یہ نہیں ہوسکا تھا۔

اتوار کو ہزاروں یمنیوں نے تغیّر چوک میں حوثیوں کے صنعا پر قبضے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔انھیں منتشر کرنے کے لیے حوثی جنگجوؤں نے ہوائی فائرنگ کی تھی اوراحتجاج کرنے والے متعدد کارکنان اور دو مقامی صحافیوں کو گرفتار کر لیا تھا لیکن ان صحافیوں کو بعد میں اس بیان حلفی کے بعد رہا کردیا گیا تھا کہ وہ مظاہرے کی کوریج نہیں کریں گے۔

قبل ازیں اتوار کی رات حوثی ملیشیا سے بحران کے حل کے لیے مذاکرات کرنے والی چار سیاسی جماعتوں نے اس سے اپنے روابط منقطع کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ ناصری یونینسٹ پیپلز پارٹی کے سربراہ عبداللہ نعمان نے حوثی گروپ پر دھونس اور جبر کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ادھر نیویارک میں آج رات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے کا اجلاس ہورہا ہے جس میں یمن میں جاری بحران پر غور کیا جائے گا۔واضح رہے کہ یمنی صدر اور وزیراعظم نے حوثی شیعہ باغیوں کے ساتھ مذاکرات میں سمجھوتا طے پا جانے کے ایک روز بعد استعفے دیے تھے۔گذشتہ بدھ کو طے پائے اس سمجھوتے کے تحت حوثی باغیوں نے صدارتی محل سمیت سرکاری عمارتوں کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا ہے۔