روس کی ایران کو جدید طیارہ شکن میزائل دینے کی پیش کش
روس نے ایران کو اپنے جدید آنتے 2500 میزائل فروخت کرنے کی پیش کش کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے مغرب کے دباؤ کے بعد ایران کے ساتھ کم طاقتور ایس 300 میزائل برآمد کرنے کی ڈیل منسوخ ہونے کے بعد یہ نئی پیش کش کی ہے۔
روس کے دفاعی پیدوار کے ادارے روستیک کے سربراہ سرگئی چیمزوف نے سوموار کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران اب اس نئی پیش کش پر غور کررہا ہے۔ روس کی تاس خبررساں ایجنسی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ''ہم نے ایران کو ایس 300 میزائلوں کے بجائے آنتے 2500 میزائل فروخت کرنے کی پیش کش کی ہے۔وہ اس پر غور کررہے ہیں لیکن اس ضمن میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے''۔ایران کی جانب سے چیمزوف کے اس بیان کے حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
چیمزوف کا کہنا تھا کہ ''مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کی وجہ سے روسی اسلحے کی فروخت میں تیزی آئی ہے۔میں اس کو چھپا نہیں رہا ہوں بلکہ ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ تنازعات میں اضافے کے ساتھ ہم سے اسلحے کی خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔پابندیوں کے باوجود اسلحے کی فروخت کا حجم بڑھ رہا ہے اور لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک روسی اسلحے کے بڑے خریدار ہیں''۔
انھوں نے مزید بتایا کہ روس نے گذشتہ سال تیرہ ارب ڈالرز مالیت کا اسلحہ فروخت کیا تھا۔واضح رہے کہ امریکی حکومت نے روس کے یوکرین میں جاری بحران میں کردار کے پیش نظر مسٹر چیمزوف پر گذشتہ سال اپریل میں پابندیاں عاید کردی تھیں۔
یاد رہے کہ روس نے سنہ 2010ء میں ایران کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایس 300 میزائل مہیا کرنے کے لیے معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔اس کے بعد ایران نے جنیوا میں بین الاقوامی مصالحتی عدالت میں روس کے خلاف چار ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ کردیا تھا لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کوئی رخنہ نہیں آیا ہے اور وہ دونوں بدستور اہم اتحادی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل نے روس پر ایران کو ایس 300 میزائل فروخت کرنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور انھوں نے تب یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ ان میزائلوں کے ذریعے اپنی جوہری تنصیبات کو مستقبل میں ممکنہ فضائی حملوں سے بچانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
آنتے 2500 میزائل 1980ء کے عشرے کے ایس 300 وی سسٹم (ای اے-12 اے گلیڈی ایٹر اور ایس اے 12 بی جائنٹ) کی جدید ترقی یافتہ شکل ہے۔یہ ساڑھے چار ہزار میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے فاصلہ طے کرسکتا ہے اور پچیس سو کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ایس 300 میزائل صرف 125 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔