.

لیبیا:سرکاری فوج کے طرابلس اور مصراتہ پر فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت فورسز نے منگل کو دارالحکومت طرابلس اور مصراتہ میں اپنے مخالف فجر لیبیا کے زیر قبضہ ہوائی اڈوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

سرکاری فضائیہ کے کمانڈر سقر الجروشی نے کہا ہے کہ یہ حملے فجر لیبیا کی جانب سے الزنتان کے ہوائی اڈے پر بمباری کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔طرابلس کے ہوائی اڈے پر موجود ایک ذریعے نے کہا ہے کہ سرکاری فوج کے طیاروں نے رن وے کے نزدیک گولے گرائے ہیں لیکن ان سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے۔

درایں اثناء فجر لیبیا کے ایک لڑاکا طیارے نے راس لانوف اور السدرہ کی بندرگاہوں پر بمباری کی ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے میں بندرگاہوں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

لیبیا میں تیل کی تنصیبات کے تحفظ کی ذمے دار فورسز کے ترجمان علی حاسی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''فضائی حملے میں راس لانوف میں ایک سول ہوائی اڈے اور السدرہ میں تیل کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔راکٹ ٹینکوں کے نزدیک گرے ہیں جس سے معمولی نقصان ہوا ہے۔طرابلس سے تعلق رکھنے والی اتحادی فورسز نے فوری طور پر ان حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

السدرہ اور راس لانوف میں واقع آئیل فیلڈز سے لیبیا کی تیل کی کل پیداوار کا نصف حاصل ہوتا ہے لیکن دسمبر میں متحارب مسلح گروپوں کے درمیان لڑائی کے بعد سے یہ دونوں کنویں بند پڑے ہیں۔اسلامی جنگجوؤں نے سوموار کو الباہی اور المبروک میں دو آئیل فیلڈز پر گولہ باری کی تھی اور السدرہ کی جانب جانے والی ایک پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں اس وقت تیل کی پیداوار کم ہو کر قریباً چار لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے جبکہ سنہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے دور اقتدار میں اس کی تیل کی یومیہ پیدوار سولہ لاکھ بیرل تھی۔

تب معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی قیادت میں بعض مغربی ممالک کی فضائیہ نے قذافی حکومت کے تحت فورسز کے خلاف محدود پیمانے پر فضائی جنگ لڑی تھی۔نیٹو کی اس فضائی کارروائی کے نتیحے میں معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا میں خانہ جنگی جاری ہے اور اس وقت دو متوازی حکومتوں کے تحت فوجیں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔