.

لیبیا اقوام متحدہ سے اسلحہ درآمد کی اجازت کا طلب گار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا نے اقوام متحدہ سے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ کے لیے یوکرین ،سربیا اور جمہوریہ چیک سے ڈیڑھ سو ٹینک ،چوبیس لڑکا جیٹ ،سات لڑاکا ہیلی کاپٹرز ،ہزاروں آتشیں رائفلیں ،گرینیڈ لانچر اور لاکھوں گولیاں درآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لیبیا نے اسلحے پر پابندی کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی کو ایک تحریری درخواست بھیجی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اس کو داعش اور دوسرے انتہا پسندوں گروپوں کے خلاف جنگ اور اپنی سرحدوں پر کنٹرول کے لیے اسلحے اور ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

اگر سلامتی کونسل کی پندرہ رکنی کمیٹی کو لیبیا کی اس درخواست پر کوئی اعتراض نہ ہوا تو وہ اس کی منظوری دے دے گی۔واضح رہے کہ سلامتی کونسل نے سنہ 2011ء میں لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کی حکومت پرہتھیاروں کی خریداری کی پابندی عاید کی تھی۔اس پابندی کے تحت اب لیبی حکومت صرف سلامتی کونسل کی کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی اسلحہ اور ہتھیار درآمد کرسکتی ہے۔

قبل ازیں لیبیا اور مصر نے اسی ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زوردیا تھا کہ وہ لیبیا پر عاید اسلحے کی خریداری کی پابندی ختم کرے اور ان علاقوں کا بحری محاصرہ کرلے جو اس وقت عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔اس کے علاوہ وہ داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں سے لڑنے کے لیے لیبی فوج کی تشکیل نو میں بھی مدد دے۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برنارڈینو لیون نے بدھ کو سلامتی کونسل کو خبردار کیا تھا کہ دولت اسلامی کو روکا نہ گیا تو وہ اس ملک میں مضبوط قدم جما لے گی۔انھوں نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ لیبی ریاست کی حمایت ،دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے لیے کوششوں کی حمایت کی غرض سے ایک واضح حکمت عملی اختیار کرے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک لیبی لیڈر فیصلہ کن انداز میں تیزی سے آگے نہیں بڑھتے اور اقدام نہیں کرتے تو ان کے ملک کی قومی سلامتی اور اس علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات برقرار رہیں گے۔

سلامتی کونسل کی لیبیا پر 2011ء میں عاید کردہ پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کو خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں ہتھیاروں کے مسلح جنگجو گروپوں کے ہاتھ لگنے پر تشویش لاحق ہے۔اس نے گذشتہ ہفتے جاری کردہ ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ لیبی حکومت کے تحت فوج کے لیے بھیجے گئے ہتھیار کس طرح جنگجو گروپوں کے ہاتھ لگ گئے تھے۔

اقوام متحدہ میں تعینات لیبی سفیر ابراہیم دباشی نے اس تشویش کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور انھوں نے سلامتی کونسل میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''لیبی آرمی ہتھیاروں کے سرکاری فورسز تک پہنچنے کے عمل کی نگرانی کے لیے مبصر مشن کو قبول کرنے کو تیار ہے اور وہ اس بات کویقینی بنائے گی کہ اس کے لیے بیرون ملک سے آنے والے ہتھیار اس تک ہی پہنچیں اور کسی اور مسلح گروہ کے ہاتھ نہ لگیں''۔

لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے قریباً پونے چارسال کے بعد بھی امن قائم نہیں ہوسکا ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان قائم ہیں۔بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان اور وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے دفاتر اس وقت مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق میں قائم ہیں جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اس کے مخالف اسلام پسند گروپوں کے اتحاد فجر لیبیا کی حکومت قائم ہے۔