حادثےکے شکار جرمن طیارے کا معاون کپتان ’داعش‘ کا ہیرو؟
گذشتہ منگل کے روز فرانس کے الپس پہاڑی سلسلے میں گر کر تباہ ہونے والے جرمن مسافر برادر طیارے کے حادثے کے بارے میں ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد جب یہ خبر سامنے آئی کہ طیارہ مبینہ طور پر معاون پائلٹ نے دانستہ تباہ کیا تھا تو اس کے ساتھ ہی سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر معاون کپتان ’’انڈریس لوپٹز۔۔۔ ایک ہیرو‘‘ کے عنوان سے ایک نیا صفحہ بھی کھولا گیا۔
العربیہ ڈات نیٹ نے فرانسیسی زبان میں کھولے گئے اس صفحے کا مطالعہ کیا ہے جو مبینہ طور پر شام اور عراق میں سرگرم سخت گیر گروپ دولت اسلامیہ ’داعش‘ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔ یوں داعش نے انڈریس لوپٹز کو ’’دولت اسلامی کا ہیرو‘‘ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ جرمنی کا مسافر طیارہ ’’ایئربس ای 320‘‘ گذشتہ منگل کو فرانس کے پہاڑی علاقے الپس میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ طیارے کے بلیک باکس سے ملنے والی ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب طیارہ حادثے کا شکار ہوا اتو اس وقت اس کا کنٹرول معاون کپتان کے پاس تھا۔ کاک پٹ میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی اور کاک پٹ کا دروازہ بند تھا۔ ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ طیارے کا مرکزی پائلٹ کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی پوری کوشش کررہا تھا مگر وہ اس میں ناکام رہا۔ اس سے قبل طیارے کے پائلٹ کی جانب سے اپنے معاون کو طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی آواز بھی ریکارڈ کی گئی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے کا کنٹرول معاون پائلٹ کے ہاتھ میں تھا۔ فرانس کے مارسیلیا شہر کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے اس نے طیارے کا کنٹرول ہاتھ میں لیتے ہی طیارے کے نیچے اترنے کا بٹن دبا دیا۔ یہ بٹن صرف دانستہ طورپر بھی دبایا جاسکتا ہے۔ حادثے کے وقت معاون کپتان انڈریس لوپٹز زندہ تھا۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر روی روبین کا کہنا ہے کہ بلیک بکس میں ریکارڈ ہونے والی آواز میں طیارے کے پائلٹ کو معاون کپتان کو طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کا کہتے سنا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پائلٹ کی کرسی کے پیچھے کیے جانے آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ کپتان کے کاک پٹ سے نکل جانے کے بعد اس کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور معاون کپتان طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کے ساتھ جہاز کے نیچے اترنے کا بٹن دبا دیتا ہے۔ طیارے کو نیچے لانے کا بٹن کبھی غیر ارادی نہیں ہوسکتا۔ یہ دانستہ اقدام تھا۔ پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہنا ہے کہ غالب امکان یہی ہے کی معاون پائلٹ نے دانستہ طور پر طیارے کو اس وقت حادثے کا شکار کیا جب اس نے دیکھا کہ طیارے کا پائلٹ کاک پٹ میں موجود نہیں ہے۔ تاہم اس سارے واقعے کے بعد کے حالات اور اس کے اسباب ومحرکات کا پتا نہیں چل سکا ہے۔
روبین کا مزید کہنا ہے کہ فرانس کے کنٹرول روم سے طیارے سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ تاہم طیارے کے معاون کپتان کا کسی شدت پسند گروپ کے ساتھ رابطوں کا ثبوت نہیں ملا ہے۔ البتہ اس حوالے سے سب سے پہلے العربیہ ڈاٹ نیٹ ہی کی جانب سے یہ خیال ظاہرکیا گیا تھا کہ عین ممکن ہے کہ طیارے کے ہوا باز نے خود کشی کی ہو اور اس نے اپنے ساتھ 149 افراد کی جان بھی لے لی ہو۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو جب ’فیس بک‘ پر داعش کے معاون پائلٹ کے بہ طور داعش کے ہیرو کے ظاہر کیے جانے کا پتا چلا تو اس صفحے کا کھوج لگا کر اس کا مطالعہ کیا گیا۔ اس وقت تک صفحے کو 182 افراد نے ’لائیک‘ بھی کرلیا تھا۔ تاہم بعد ازاں صفحہ بلاک کردیا گیا تھا۔