ملائیشیا کا یمن میں سعودی فوجی آپریشن میں شمولیت پرغور
شہزادہ محمد کی پاکستانی وزیردفاع سمیت اہم عالمی رہ نمائوں سے ملاقاتیں
ملائیشیا کی حکومت نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کے فوجی آپریشن میں شمولیت پرغور کا عندیہ دیا دہے۔ دوسری جانب پاکستانی وزیردفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی حکومتی وفد نے ریاض میں شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اہم عالمی رہ نمائوں کی سعودی عرب آمد اور حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کے حوالے سے صلاح مشورے جاری ہیں۔ گذشتہ روزامریکی ایوان نمائندگان کے چیئرمین جون بینرنے بھی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ شہزادہ سلمان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ تعاون بالخصوص یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ پر تبادلہ خیا کیا گیا۔ امریکی رُکن کانگریس کا کہنا تھا کہ ان کا ملک حوثی باغیوں کے خلاف سعودی حکومت کی کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔
بعد ازاں ملائیشیا کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل تان سری راجا نے بھی ریاض میں سعودی وزیردفاع سے ملاقات کی۔ ملاقات میں حوثیوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں ملائیشیا کی شمولیت کے بارے میں غور کیا گیا۔ وزیردفاع شہزادہ سلمان نے بتایا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن صدر منصور ھادی کی درخواست پر شروع کیا گیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد یمن کو مخصوص گروہ کے چنگل سے نکال کر امن و استحکام کی راہ پر ڈالنا ہے۔
ادھر سوڈان کے وزیرمملکت اورایوان صدر کے پرنسپل سیکرٹری طہ عثمان احمد الحسین نے صدر عمر حسن البشیر کی جانب سے سعودی وزیردفاع اور خادم الحرمین الشریفین کو ارسال کیے گئے پیغامات ان تک پہنچائے۔ سوڈانی وزیر نے شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور صدر کے دونوں مکتوب ان کے حوالے کیے۔
کل منگل کو پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے دورہ سعودی عرب کے دوران شہزادہ محمد بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران یمن میں جاری فوجی آپریشن’’فیصلہ کن طوفان‘‘ بات چیت میں سرفہرست رہا۔ ملاقات میں فوجی آپریشن میں پاکستان کی مسلح افواج کی شمولیت کے امکانات پربھی غور کیا گیا۔
ملاقات میں سعودی عرب کے معاون وزیردفاع محمد بن عبداللہ العایش، مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالرحمان بن صالح البنیان، ڈائریکٹر جنرل محکمہ دفاع فہد بن محمد العیسیٰ، بری فوج کے سربراہ میجر جنرل عید بن عواض الشلوی، نیول چیف عبداللہ بن سلطان السلطان اور فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل محمد بن احمد الشعلان نے شرکت کی جبکہ پا کستانی وفد میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے ہمراہ وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق ندیم احمد، فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل محمد مجاھد حسین اور نیوی آپریشن کے ڈپٹی چیف میجر جنرل کلیم شوکت، سعودی عرب میں معین پاکستان کے سفیر منظور الحق اور ملٹری اتاشی طاہر گلزار نے شرکت کی۔
-
حوثی یمن کو تباہی سے دوچار کرنا چاہتے ہیں:شیخ الازھر
مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا ہے کہ ...
بين الاقوامى -
جنرل سلیمانی یمن میں موجود ہیں: ایرانی سفارتکار
ایران کی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ایلیٹ ...
بين الاقوامى -
یمن آپریشن کی حمایت، حزب اللہ کی لبنانی حکومت مفلوج کرنے کی دھکی
یمن میں ایران نواز حوثی شدت پسندوں اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے حامیوں کے خلاف ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ کے بانی رہ نما کی یمن فوجی آپریشن کی حمایت
حسن نصراللہ کی جانب سے سعودی عرب پرتنقید مسترد
مشرق وسطی -
شاہ سلمان یمن کی سیاسی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ وہ یمن کی سلامتی اور ...
بين الاقوامى -
یمن میں عرب زمینی فوج بھیجی جائے:وزیرخارجہ
یمن کے وزیرخارجہ ریاض یاسین نے اپنے ملک میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف عرب ممالک کی ...
بين الاقوامى