’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘اخوان رہ نما نے قیادت پراپنا غصہ نکال دیا!

حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کے لیے جماعت پر اسرائیل سے ساز باز کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مصرمیں فوجی حکومت کے زیرعتاب ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے ایک سابق نائب مرشد عام کا چشم کشا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اخوان قیادت نے اسرائیلی اور امریکی حکام کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق نائب مرشد عام محمد حبیب کا کہنا ہے کہ سنہ 2009ء میں اخوان المسلمون کے رہ نمائوں کی قاہرہ میں متعین اسرائیلی سفیر سے ملاقات کا اہتمام کرایا گیا۔ ملاقات طے کرانے میں اس وقت کی خاتون امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور ان کے معاون خصوصی رچرڈ آرمیٹیج پیش پیش تھے۔ ملاقات میں اخوان قیادت کو یقین دلایا گیا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کو نکیل ڈالے تو تل ابیب اور واشنگٹن اخوان کو مصر میں مسند اقتدار تک پہنچانے میں مدد کریں گے۔

سابق نائب مرشد عام نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اخوان المسلمون کی قیادت سنہ 1987ء کے بعد ہر سال امریکی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی سالانہ تقریب میں شرکت کرتے تھے۔ سنہ 2009ء میں جب میں بھی نائب مرشد عام تھا تو مجھے امریکی سفارت خانے میں منعقدہ ایک تقریب میں لے جایا گیا، جہاں اخوان کے رہ نما ڈاکٹر محمد سعد الکتاتنی جو بعد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی منتخب ہوئے تھے، میرے ہمراہ تھے۔ تقریب میں اسرائیلی سفیر بھی موجود تھے۔ سفارتی پروٹوکول کے تحت مجھے سفیر موصوف سے مصافحہ کرنے کو کہا گیا تو میں اس پر احتجاج کیا اور جماعت کی قیادت سے کہا کہ تقریب میں آنے سے قبل مجھے صورت حال سے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔ اس پر ڈاکٹر سعد الکتاتنی نے معذرت کی۔ تقریب میں مصر کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے سربراہ حافظ ابو سعدہ بھی موجود تھے۔ بعد ازاں انہوں نے صحافی عبدالحظیم حماد کو بتایا کہ ملاقات کا اہتمام امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کے معاون خصوصی رچرڈ آرمیٹیج نے کیا تھا۔ تقریب میں شریک اخوان کی قیادت نے اسرائیلی سفیر سے مصافحہ کیا۔ اس دوران میں ایک گھنٹے تک تقریب سے الگ تھلگ رہا۔ اسرائیلی سفیر رچرڈ آرمیٹیج نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اخوان المسلمون اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ پر امن رہنے کی ضمانت دے تو وہ اسے مصر میں حسنی مبارک کی جگہ اقتدار تک پہچانے میں معاونت کرسکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں محمد حبیب کا کہنا تھا کہ قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے کی تقریب میں اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت نے شرکت کی۔ ان میں ڈاکٹر سعد الکتاتنی، سعد الحسینی، اور حازم فاروق سر فہرست تھے۔ تقریب میں امریکی سفیر اور وزارت خارجہ کے معاون خصوصی رچرڈ آرمیٹیج بھی شریک ہوئے۔ اخوان کی قیادت اور امریکی حکام کےدرمیان سنہ 2005ء میں طے پائے ایک خفیہ پلان پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ یہ پلان بھی امریکا نے اس وقت تیار کیا تھا کہ سنہ 2005ء میں حسنی مبارک نے صدارتی انتخابات کرائے تھے۔ امریکا نے مصری صدارتی انتخابات پر اعتراضات کرتے ہوئے اخوان قیادت سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بہتر ہے کہ اب حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کردیا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ حسنی مبارک سے گلو خلاصی حاصل کی جائے۔ اس مقصد کے لیے پورے مصر میں عوام کو سڑکوں پر لایا جائے اور عوامی طاقت کے ذریعے حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کرنے پر مجبور کیا جائے۔ متبادل کے طور پر مصرمیں اخوان المسلمون کی حکومت قائم کی جائے۔

اخوان کے سابق نائب مرشد عام نے بتایا کہ سنہ 2010ء میں حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت سے قبل جماعت کے مرشد عام کے لیے انتخابات کرائے گئے۔ میں بھی اس وقت مرشد عام کے امیدواروں میں شامل تھا اور غالب امکان تھا کہ جماعت کے کارکن بھاری اکثریتی سے مجھے مرشدعام چنیں گے لیکن مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر محمد بدیع کو اخوان المسلمون کا مرشد عام منتخب کرلیا گیا ہے۔ ڈاکٹر بدیع کے بہ طور مرشد عام منتخب ہونے کے بعد اخوان قیادت اور امریکیوں کے درمیان رابطے مزید تیز ہوگئے تھے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سابق مرشد عام ڈاکٹر مہدی عاکف اور میرے درمیان خط کتابت بھی جاری رہی۔ ایک خط میں انہوں نے لکھا کہ فلسطین میں اسرائیل کے خلاف خود کش حملے بند ہونے چاہئیں کیونکہ اب ہم امریکا کے ساتھ تعاون کے راستے پر چل رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سابق نائب مرشد عام نے کہا کہ ڈاکٹر مہدی عاکف کے دور میں امریکی شخصیات کی اکثر ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ امریکیوں کے خیال میں مہدی عاکف واشنگٹن سے رابطے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔ اس لیے ان کی نظر مجھ پر تھی، لیکن جب انہیں پتا چلا کہ میں اخوان المسلمون کو اقتدار میں لانے کا خواہاں نہیں ہوں تو انہوں نے مجھ سے توجہ ہٹا دی تھی۔ میرا خیال تھا کہ اخون المسلمون اگلے کئی سال تک اقتدار میں نہیں آسکتی، اگر عجلت میں جماعت اقتدار میں آبھی گئی تو یہ اس کا اختتام ہوگا اور بعد ازاں میرا گمان درست ثابت ہوا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ میرے ہوتے ہوئے امریکیوں کا پلان پورا نہیں ہوسکتا۔ میں نے بھی جماعت کی قیادت سے ڈاکٹر محمد بدیع کی حمایت پر زور دیا کیونکہ وہ ٹکرائو سے گریز کرنے والے رہ نما تھے اور امریکیوں کے لیے نسبتا زیادہ قابل قبول تھے۔ جماعتی انتخابات کے نتیجے میں محمد بدیع مرشد عام بن گئے، جس کے بعد ملک میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ اخوان کے بارے میں امریکا جو پلان تھا اب پورا ہو رہا تھا۔ حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اخوان کو اکثریت دلوائی گئی۔ بعد ازاں صدر بھی اخوان ہی کے منتخب ہوئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت کی صف اول کی قیادت خوش فہمیوں کا شکار تھی۔ میں نے جماعت کو ممکنہ مشکلات سے بچانے کے لیے بھی کوشش کی۔ میں نے مشورہ دیا کہ جماعت کے نائب مرشد عام خیرت الشاطر کو صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار نہ بنایا جائے، کیونکہ یہ جماعت اور پورےملک کے لیے مہنگا پڑے گا۔ میری بات پر جماعت کی قیادت نے کان نہ دھرے اور خیرت الشاطر کو صدارتی امیدوار ڈی کلیئر کردیا گیا ہے۔ اس وقت امریکا بھی اخوان کی پشت سے ہٹ گیا تھا۔ مصر میں امریکا کی سیاسی مداخلت کا کوئی وجود نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں