اخوان کے مرشد عام سمیت 13 قائدین کو سزائے موت
جماعت کے 37 رہنمائوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی
مصر کی ایک فوجی عدالت نے کالعدم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سمیت جماعت کے 13 اہم رہنمائوں کو ایک مقدمہ میں سزائے موت اور 37 کو عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کی فوجی عدالت کی جانب سے ’’الرابعہ آپریشنل روم‘‘ مقدمہ میں جماعت کی مرکزی قیادت کے خلاف دائر کیس کی سماعت ہفتے کے روز کی۔ عمر قید کی سزا پانے والوں میں محمد سلطان کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔ ان پر جماعت کی حمایت کرنے اور جھوٹی خبریں نشر کرانے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں مصر کی ایک عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے میں اخوان کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع اور جماعت کے تیرہ رہ نمائوں کی سزائے موت کا فیصلہ مفتی اعظم کے پاس بھجوایا تھا۔ اس فہرست میں ڈاکٹر محمد بدیع، محمود غزلان، حسام ابو بکر، مصطفیٰ الغنیمی، سعود الحسینی، ولید عبدالرئوف، محمود شلبی، صلاح سلطان، عمر حسن عزالدین، سعد عمارہ، محمد المحمدی، فتحی محمد ابراہیم، صلاح بلال شہاب الدین، محمود البربری اور عبدالرحیم محمد عبدالرحیم شامل ہیں۔
ہفتے کے روز اخوان کے مرشد عام اور جماعت کے دوسرے رہ نمائوں کو سنائی گئی سزا میں جولائی2013 ء میں سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد اخوان المسلمون کے احتجاجی مظاہروں میں توڑ پھوڑ، پولیس اسٹیشنوں کو آگ لگانے اور چرچوں کو نذر آتش کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
-
مصر:ڈاکٹر مرسی کے 22 حامیوں کو سزائے موت کا حکم
مصر کی ایک عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے بائیس حامیوں کو ایک پولیس اسٹیشن ...
مشرق وسطی -
اخوان کے مرشد عام کو چوتھی بار عمر قید کی سزاء
مقدمے میں شامل چار اخوانیوں کی سزائے موت کا فیصلہ
بين الاقوامى -
مرشد عام اخوان المسلمون سمیت سات رہنماوں کو عمر قید
مصری عدالت: محمد بدیع کو سزائے موت بھی سنائی جا چکی ہے
مشرق وسطی