.

برطانوی کونسلر کا صاحبزادہ ترکی سے ڈی پورٹ

لڑائی کے لیے شام جاتے ہوئے ترکی کی سرحد پر پکڑا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکام نے برطانیہ کے ایک مقامی سیاست دان کے بیٹے کو دوہفتے تک زیر حراست رکھنے کے بعد ڈی پورٹ کردیا ہے۔ترک حکام نے اس کو آٹھ اور برطانوی شہریوں کے ساتھ ترکی سےغیر قانونی طور پر سرحد عبور کرکے شام میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا تھا۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ کی اطلاع کے مطابق یہ اکیس سالہ نوجوان لیبر پارٹی کے کونسلر شکیل احمد کا بیٹا ہے اور اس کو ترکی کے جنوب مغرب میں واقع دالامان کے ہوائی اڈے سے برمنگھم ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔اس کو شامی سرحد کے ساتھ واقع ترکی کے علاقے میں گرفتاری کے بعد زیر حراست رکھا گیا تھا۔

عراق اور شام میں اس وقت ہزاروں غیرملکی مختلف جنگجو گروپوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔یورپی یونین کی جسٹس کمشنر ورا جوریوا کا کہنا ہے کہ ''شام میں یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے چھے ہزار سے زیادہ جنگجو لڑ رہے ہیں۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ غیر ملکی جنگجوؤں کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے''۔

ترکی اور دوسرے ممالک کی سکیورٹی سروسز کے اندازے کے مطابق شام میں قریباً چھے سو برطانوی شہری موجود ہیں۔ان میں داعش کا مشہور قصاب جہادی جان بھی شامل ہے جو اب تک غیرملکی یرغمالیوں کے سرقلم کرنے کی متعدد ویڈیوز میں نمودار ہوچکا ہے۔ان چھے سو برطانوی شہریوں میں سے نصف کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وطن لوٹ چکے ہیں۔