.

امریکا نہیں،داعش روس کی بڑی دشمن ہے:لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) ان کے ملک کی سب سے بڑی دشمن ہے۔

روسی وزیرخارجہ نے ایک انٹرویو کے دوران یہ بات کہی ہے۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ ان کے خیال میں چین ،داعش یا نیٹو میں سے روس کو کس سے زیادہ خطرہ درپیش ہے؟

انھوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ''اس وقت سیکڑوں روسی شہری ،سیکڑوں یورپی اور سیکڑوں ہی امریکی شہریوں کے علاوہ سابق سوویت ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد داعش میں شامل ہوکر (عراق اور شام میں) لڑرہے ہیں۔ان میں بہت سے واپس وطن پہنچ چکے ہیں۔وہ لڑائی کے بعد یہاں آرام کے لیے آئے ہیں اور وہ یہاں بھی اوچھے ہتھکنڈوں پر اترسکتے ہیں''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''جہاں تک امریکا کے ساتھ تعلقات کا تعلق ہے تو یہ ریاستی ایشوز ہیں۔یہ ورلڈ آرڈر کے ایشوز ہیں اور انھیں بات چیت کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے''۔

واضح رہے کہ روس کے یوکرین میں جنگ کی وجہ سے امریکا اور مغرب کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں اور یہ سرد جنگ کے دور کی سطح پر آچکے ہیں۔کریملن حکومت نے یوکرین کے ماسکو نواز علاحدگی پسندوں کی حمایت کی تھی جس پر امریکا نے اس کے خلاف پابندیاں عاید کردی تھیں لیکن اس سب کے باوجود روسی وزیر خارجہ نے امریکا کو نہیں بلکہ داعش گروپ کو اپنے ملک کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے۔