پاسداران انقلاب کی جیب میں خطیر دولت آئے گی: ایرانی ذرائع کا انکشاف
روئٹرز کے مطابق امریکی پابندیاں ہٹنے کی صورت میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب بھاری منافع حاصل کریں گے
ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد حتمی معاہدے میں ایک تضاد پنہاں ہے، جس کے تحت ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو بھاری رقوم مل سکتی ہیں۔ یہ اس قوت کو مزید مستحکم کرے گا جسے امریکہ دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے پابندیوں کے سائے میں تیل، تعمیرات، شپنگ اور مواصلات پر مشتمل ایک وسیع تجارتی سلطنت قائم کر لی ہے۔ اب جبکہ تہران اور واشنگٹن جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے ایران کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی کے راستے کھل سکتے ہیں، پاسدارانِ انقلاب سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہونے کی تیاری کر ہے ہیں۔
چار ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایسی منفرد پوزیشن میں ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے، تیل کی برآمدات کی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع کا بڑا حصہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کی تجارتی سرگرمیوں میں گہری شمولیت کے باعث اسے دہشت گرد تنظیم کے طور پر درجہ بندی کرنا معیشت کو آزاد کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
ایک اعلیٰ ذریعے نے پاسدارانِ انقلاب کو جنگ کا حقیقی فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے حکومت کی بقا کو یقینی بنانے کے بعد اب پابندیوں کے خاتمے سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہترین پوزیشن حاصل کر لی ہے، کیونکہ گذشتہ چند دہائیوں سے وہی پابندیوں کو توڑنے والی کارروائیوں کا انتظام سنبھال رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا انجینئرنگ ونگ "خاتم الانبیاء"، سیکڑوں ایسی کمپنیوں کی نگرانی کرتا ہے جو انفراسٹرکچر، توانائی، مواصلات اور لوجسٹکس کے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔
ایرانی قانون غیر ملکی کمپنیوں کے لیے مقامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا لازمی قرار دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ کمپنیاں سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش شعبوں میں داخلے کا گیٹ وے بن جائیں گی۔ چنانچہ مغربی کمپنیاں خود کو پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے پا سکتی ہیں، جس سے پابندیوں کی زد میں آنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بنیاد آیت اللہ خمینی نے رکھی تھی۔ رواں سال 28 فروری کو جنگ شروع ہونے اور خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سے اس نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے اور خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنانے میں مدد کی۔ تاہم اس نے ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کی حمایت کی ہے۔ یہ یاد داشت تیل کی فروخت میں استثنا دے گی، جبکہ مستقبل میں کسی وسیع تر معاہدے سے ایران کو 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ تک رسائی مل سکتی ہے۔