.

یمن کا اقوام متحدہ سے زمینی فوجی مداخلت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپنے ملک اور خاص طور پر جنوبی شہر عدن اور تعز کو بچانے کے لیے فوری زمینی فوج بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے یمن میں عارضی جنگ بندی پر زوردیا ہے۔

یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط بھیجا ہے۔اس کے وزیر خارجہ ریاض یاسین نے بدھ کو سعودی دارالحکومت الریاض میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اس خط کے مندرجات پڑھ کر سنائے ہیں۔اس میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کی نہتے عوام کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کی تفصیلات اکٹھی کریں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ''یمنی عدن کو حوثیوں کے ہتھے چڑھنے سے بچانے کے لیے فوری طور پر زمینی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہیں''۔خط میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ عام شہریوں کو تحفظ مہیا کرے''۔

وزیرخارجہ ریاض یاسین نے العربیہ نیوز چینل سے براہ راست نشر کی گئی نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بعض تصاویر بھی دکھائی ہیں جن میں حوثی جنگجو یمن کے مہاجر خاندانوں کے خلاف جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ حوثیوں کے ایک کشتی پر حملے میں بچوں اور خواتین سمیت پچاس سے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔یہ تمام افراد تواہی کے علاقے سے کسی محفوظ مقام کی جانب جارہے تھے۔

اس میں حوثیوں پر یہ سنگین الزام بھی عاید کیا گیا ہے کہ وہ عدن میں نقل وحرکت کرنے والی کسی بھی چیز کو اپنے حملوں کا ہدف بنا رہے ہیں۔وہ انسانی امدادی کارکنان کو ہلاک کررہے ہیں اور خاندانوں پر توپ خانے سے بھاری گولہ باری کررہے ہیں۔وہ میڈیکل ٹیموں کو بھی زخمیوں تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کے موجودہ صدر ملک لیتھوینیا کے سفیر ریمونڈا مرموکیٹ کی خاتون ترجمان نے یمن کی جانب سے بھیجا گیا خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔تاہم سلامتی کونسل کے جمعرات کے اجلاس میں اس پر کوئی غور طے نہیں ہے۔

یمنی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ سے یمن میں زمینی فوجیں داخل کرنے کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے،جب عالمی برادری انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کررہی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اس سلسلے میں بات چیت کی غرض سے بدھ کو سعودی دارالحکومت الریاض پہنچے تھے اور انھوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور دوسرے عہدے داروں سے ملاقات میں یمن میں ایندھن ،خوراک اور ادویہ کی شدید قلت کے پیش نظر عارضی جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔