.

یمن :حوثیوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

حوثی ملیشیا کی یمن میں پانچ مقامات اور سعودی سرحدی علاقے پر گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ فوجی اتحاد اس کے باوجود جنگ بندی پر عمل پیرا رہے گا۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''حوثی ملیشیا نے جنگ بندی کی بارہ خلاف ورزیاں کی ہِیں۔حوثیوں نے منگل کی رات پانچ روزہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد یمن اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی علاقے کے علاوہ یمن کے اندر بھی سیزفائر کو توڑا ہے''۔

قبل ازیں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں نے سعودی عرب کی جانب سے تجویز کردہ جنگ بندی کی پابندی کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ یمن میں جنگ سے متاثرہ افراد تک امداد پہنچائی جاسکے۔اقوام متحدہ کے خوراک سے متعلق ادارے نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں صورت حال انتہائی ابتر ہے۔

سعودی اتحاد کے بیان کے مطابق حوثی باغیوں نے یمن کے اندر جنگ بندی کی پانچ خلاف ورزیاں کی ہیں اور انھوں نے جنوبی شہر الضالع کی جانب توپ خانے اور ٹینک سے گولہ باری کی ہے اور راکٹ بھی چلائے ہیں۔اس شہر میں جھڑپیں جاری تھیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایک اور جنوبی شہر لودر میں بھاری ہتھیاروں سے شدید گولہ باری کی اطلاع ملی ہے اور وہاں حوثیوں کا قبضہ جاری ہے۔جنوبی صوبے عدن میں جنگجو دستوں کی فوجی آلات اور توپ خانے کے ساتھ نقل وحرکت کی جارہی ہے۔

اتحاد نے وسطی صوبے تعز میں حوثیوں کی کارروائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ایک اور جنوبی صوبے شبوۃ میں بھی باغیوں نے بدستور ہتھیاروں سمیت نقل وحرکت جاری رکھی ہوئی ہے۔

بیان میں سعودی ،یمنی سرحد پر حوثی باغیوں کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے شہروں نجران اور جازان کی جانب پانچ مقامات پر مارٹر بم یا راکٹ فائر کیے ہیں۔ان کے ماہر نشانہ بازوں نے گھات لگا کر فائرنگ کی ہے اور دو مقامات پر دراندازی کی کوشش کی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے بدھ کو بھی حوثی باغیوں کے زیر قبضہ یمن کے شمالی علاقے سے نجران اور جازان کی جانب راکٹ فائر کیے جانے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ سعودی عرب کی مسلح افواج انسانی بنیاد پر جنگ بندی کے وقفے کے دوران ضبط وتحمل کا مظاہرہ کررہی ہیں اور انھوں نے کوئی جوابی فائر نہیں کیا ہے۔

جنگ بندی کے آغاز سے قبل گذشتہ ہفتے کے دوران حوثی باغیوں کی سعودی عرب کے سرحدی علاقے میں شہری آبادیوں پر گولہ باری کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔سرحد پر حوثیوں کے ساتھ جھڑپوں میں سعودی عرب کے بارہ فوجی شہید ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق یمن میں 26 مارچ کو سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد پندرہ سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔