.

یمن: حوثی اور صالح ملیشیا کے ٹھکانوں پر مزید بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی فوج میں شامل لڑاکا طیاروں کے بدھ کے روز علی الصباح یمن کے طول و عرض میں حوثیوں کے زیر استعمال متعدد اسلحہ گوداموں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔

یہ حملے صنعاء، عمران اور صعدہ ہوائی اڈے کے قریب قائم گولا بارود ڈپووں اور انہی شہروں میں حوثی ملیشیا کے متعدد ٹھکانوں پر کئے گئے۔ حملوں میں ہونے والے نقصانات کے بارے فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی۔

اتحادی فوج نے زنجیبار کے ساحلی اور بندرگاہی شہر اور ابین گورنری میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر چار حملے کئے ہیں۔ ان میں باغیوں کے زیر کمان ایک بٹالین کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر لوادر شہر میں حوثی ملیشیا کے خلاف سرگرم عوامی مزاحمتی فورسز اور حوثیوں کے ساتھ وابستہ ری پبلیکن گارڈ فورسز کے درمیان لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب ری پبلیکن گارڈز نے اتحادی فوج کے فضائی حملوں کے بعد اپنے ٹھکانوں سے انخلاء شروع کیا۔

سعودی عرب کی قیادت میں دارلحکومت صنعاء میں حوثیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کی اتحادی ملیشیا کے اسلحہ ڈپووں پر منگل کے روز بمباری کی گئی۔

العربیہ کے مطابق حملوں میں سابق صدر کے بیٹے احمد علی صالح کے محل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اتوار کے روز ختم ہونے والی پانچ روزہ فائر بندی کی مدت کے بعد کئے جانے والے یہ پہلے حملے تھے۔ جنوبی شہر عدن کے شمالی صوبے صعدہ میں منگل کو علی الصباح ہی فوجی کارروائیوں کا آغاز ہو گیا تھا۔