.

عراق: داعش کو الانبار سے بے دخل کرنے کے لیے آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی حکومت نے مغربی صوبے الانبار سے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عراق کے سرکاری ٹی وی نے منگل کو اس آپریشن کے آغاز کی اطلاع دی ہے۔اس میں فوج حصہ لے رہی ہے اور انھیں شیعہ اور سنی نیم فوجی دستوں کی مدد حاصل ہے لیکن اس نے اس کارروائی کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

عراق کی شیعہ ملیشیاؤں کے ترجمان احمد الاسدی نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف یہ کارروائی کوئی زیادہ دیر جاری نہیں رہے گی۔عراقی فورسز نے صوبائی دارالحکومت الرمادی کا تین اطراف سے محاصرہ کر لیا ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس لڑائی میں نئے ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں اور یہ دشمن کو حیران کردیں گے۔

داعش نے گذشتہ سال کے اوائل سے الانبار کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کررکھا ہے اور اسی ماہ کے آغاز میں انھوں نے الرمادی پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔اس شہر کے سقوط کو عراقی سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی شکست اور ہزیمت قرار دیا گیا ہے۔

عراقی فوجی الرمادی میں شکست کے بعد اپنے ہتھیار اور سازوسامان بھی چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جس پر داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔عراقی فورسز کے اس طرح میدان جنگ سے راہ فرار پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے کہا تھا کہ انھوں نے داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں زیادہ تعداد کے باوجود شکست کھائی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں لڑائی کے عزم کی کمی ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے ترجمان سعد الحدیثی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کو کارٹر کے اس بیان پر حیرت ہوئی ہے اور لگتا ہے کہ امریکی وزیردفاع کو نامکمل معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

حیدر العبادی نے الرمادی پر داعش کے قبضے کے بعد شیعہ ملیشیاؤں کو سنی اکثریتی صوبے الانبار کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عراقی فوج کی مدد کی ہدایت کی تھی۔ماضی قریب میں شیعہ ملیشیاؤں نے داعش کے زیر قبضہ شمالی شہر تکریت اور بعض دوسرے علاقوں کو چھڑوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تاہم انسانی حقوق کے گروپ ان پر لوٹ مار ،املاک کو تباہ کرنے اور انتقامی حملوں کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں لیکن ملیشیاء لیڈر ان الزامات کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔