.

"فتح رمادی کا مںصوبہ پیرس ملاقات میں زیر بحث لایا جائے گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ عراق کے مغربی شہر الرمادی کو دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے قبضے سے چھڑوانے کے عراقی منصوبے پر پیرس میں داعش مخالف اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں بحث کی جائیگی۔

پچھلے ماہ کے دوران رمادی میں ہونے والے نقصان کے بعد عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی اپنی حکومت کی جانب سے رمادی کو داعش کے قبضے سے چھڑوانے کا منصوبہ پیش کریں گے اور اس منصوبے میں اتحادی افواج کے کردار کی وضاحت کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سینئیر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ" یہ معمول کی ملاقات نہیں ہے۔ ہم عراقی وزیر اعظم کے ساتھ رمادی اور الانبار صوبے کو داعش سے آزاد کروانے کی منصوبہ بندی کریں گے۔"

رمادی پر انتہا پسند تنظیم کے قبضے کے فورا بعد عبادی کی کابینہ کی جانب سے اختیار کئے جانے والے منصوبے کے تحت الانبار صوبے کو سنی قبائل کو داعش کے خلاف مسلح کیا جائیگا، پولیس کو نئی قیادت تلے تعینات کیا جائے گا، تعمیر نو کے لئے امداد فوری طور پر بھیجی جائے گی اور تمام شیعہ ملیشیائوں کو بغداد کے احکامات کے تلے اکٹھا کیا جائیگا۔

عراقی حکومت کی منصوبہ بندی میں سب سے زیادہ ترجیح تمام شیعہ ملیشیائوں کو بغداد کے تلے جمع کرنے کو حاصل ہے۔

کچھ شیعہ رضاکار ایران کی پشت پناہی پر سنی علاقوں میں مرکزی حکومت کے تسلط سے باہر رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکا کو تحفظات ہیں کہ تہران کے اس کردار کی وجہ سے فرقہ وارانہ تقسیم میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مگر امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ عبادی کے منصوبے کی وجہ سے سے تمام ملیشیا بغداد کے احکامات پر ہی چلیں گی۔

پیرس مذاکرات میں داعش مخالف اتحاد کے وزرائے خارجہ شامل ہوںگے جن میں برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، فرانس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔