.

بوسنیا: پوپ فرانسس کا دورہ، بین المذاہب امن کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس ہفتے کے روز بوسنیا کا ایک دن کا دورہ کریں گے تاکہ سرب، کروشیائی اور مسلم کمیونیٹیز کے درمیان مفاہمت کے کام کو مضبوط کیا جائے۔

پوپ فرانسس 1992ء سے 1995ء کے دوران جاری رہنے والی جنگ کے بیس سال مکمل ہونے کے موقع پر سرائیوو کے دورے پر آئے ہیں۔ بلقان ریاست میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں خطے میں نسلی امتیاز پھیل گیا تھا۔

اس موقع پر سیکیورٹی خدشات میں اس وقت شدید اضافہ ہوا جب انتہاپسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے اراکین ہونے کے دعویٰ کرنے والے کچھ مسلح افراد نے ایک وڈیو میں بلقان کے باسیوں سے جہاد کی اپیل کی ہے۔

بوسنیا کے ایک تہائی سے زیادہ کیتھولک کروشیائی باشندے جنگ کے بعد ملک چھوڑ چکے ہیں اور 38 لاکھ کی آبادی والا ملک 'بوسنین سرب ریپبلک' اور کروشیائی مسلم فیڈریشن میں تقسیم ہوگیا ہے۔

کسی زمانے میں کثیر الثقافت کی وجہ سے پہچانے جانے والے سرائیوو میں اب نسلی تقسیم واضح طور پر دکھائی جاتی ہے۔ ممکنہ مخالفت کے باوجود ویٹیکن کے عہدیداران کا یقین ہے کہ پوپ کے دورے سے بین المذاہب مذاکرات کو فروغ ملے گا۔

پوپ فرانسس سرائیوو میں اپنے 10 گھنٹوں کے قیام کے دوران اولمپک سٹیڈیم میں 65 ہزار افراد سے خطاب کریں گے اور اس کے علاوہ کیتھولک، آرتھوڈوکس،مسلم اور یہودی کمیونیٹی کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔

بوسنیا کی 40 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ 30 فیصد سرب آرتھوڈوکس روایتوں کے پیروکار ہیں۔ اس کے علاوہ دس میں سے ایک باشندے خصوصی طور پر کروشیائی باشندے اپنے آپ کو کیتھولک قرار دیتے ہیں۔

پوپ کے دورے کے موقع پر سیکیورٹی بہت سخت کر دی جائے گی۔ کم ازکم 5000 پولیس والے اس موقع پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے جبکہ تقریبا ایک لاکھ افراد پوپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے سرائیوو میں آئیں گے۔